عالمی ادارہ صحت کے گلوبل سنٹر فار ٹریڈیشنل میڈیسن کا قیام منظور

   

گجرات کے جام نگر میں قائم کیا جائے گا، ڈبلیو ایچ او کے تعاون پر کابینہ کا اظہارستائش
نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی کی صدارت میں مرکزی کابینہ نے حکومت اور ڈبلیو ایچ او کے درمیان میزبان ملک معاہدے پر دستخط کرکے گجرات کے جام نگر میں عالمی ادارہ صحت گلوبل سنٹر فار ٹریڈیشنل میڈیسن کے قیام کو منظوری دیدی ہے ۔ڈبلیو ایچ او جی سی ٹی ایم کا قیام آیوش کی وزارت کے تحت جام نگر میں کیا جائے گا۔ یہ دنیا بھر میں روایتی ادویات کیلئے پہلا اور واحد عالمی مرکز (دفتر) ہوگا۔عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس ادھانوم گبیریئس نے عزت مآب وزیر اعظم کی موجودگی میں 13نومبر 2020کو پانچویں یوم آیوروید کے موقع پر بھارت میں عالمی ادارہ صحت جی سی ٹی ایم کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ وزیر اعظم نے عالمی ادارہ صحت کے اس اقدام کی ستائش کی اور اس کہا کہ ڈبلیو ایچ او جی سی ٹی ایم عالمی صحت کے اہم مرکز کے طور پر ابھرے گا، نیز شواہد پر مبنی تحقیق، تربیت اور روایتی طب کیلئے بیداری کو تقویت دے گا۔اس مرکز کے قیام کیلئے سرگرمیوں کی ہم آہنگی، عمل درآمد اور نگرانی کیلئے ایک مشترکہ ٹاسک فورس (جے ٹی ایف) تشکیل دی گئی ہے ۔ جے ٹی ایف میں حکومت ہند کے مستقل مشن، جنیوا اور عالمی ادارہ صحت کے نمائندے شامل ہیں۔ اس کے دائرے میں گجرات کے جام نگر کے آئی ٹی آر اے میں ایک عبوری دفتر قائم کیا جارہا ہے تاکہ شناخت شدہ تکنیکی سرگرمیوں اور ڈبلیو ایچ او جی سی ٹی ایم کی فعال منصوبہ بندی کو عملی جامہ پہنایا جاسکے۔ عبوری دفتر کا مقصد وسیع پیمانے پر شواہد پیدا کرنا اور اختراعات کرنا، روایتی ادویات کیلئے مصنوعی ذہانت پر مبنی حل، کوچرین کے تعاون سے منظم جائزے ، ڈبلیو ایچ او جی پی ڈبلیو 13 (تیرہواں جنرل پروگرام آف ورک (2019-2023 میں روایتی ادویات کے اعداد و شمار پر عالمی سروے اور پائیدار ترقیاتی اہداف اور دیگر مقاصد کی تکمیل کی گنجائش ہے۔
، روایتی طب سماجی ثقافتی اور حیاتیاتی تنوع جس میں پائیدار ترقی اور انتظام کے لیے آگے بڑھنے کی اپروچ شامل ہے ۔ ڈبلیو ایچ او جی سی ٹی ایم کے مرکزی دفتر کے قیام کے لیے کراس کٹنگ فنکشنز، کاروباری کارروائیاں اور انتظامی عمل بھی شامل ہیں۔ ڈبلیو ایچ او جی سی ٹی ایم روایتی ادویات سے متعلق تمام عالمی صحت کے معاملات پر قیادت فراہم کرے گا اور ساتھ ہی روایتی ادویات کی تحقیق، طریقوں اور صحت عامہ سے متعلق مختلف پالیسیوں کی تشکیل میں رکن ممالک کی مدد کرے گا۔