آسٹریلیا میں 20لوگوں کی جان بچانے کا اعزاز، مرکزی و ریاستی حکومت کا معاندانہ رویہ ممکنہ مدد کرنے جناب عامر علی خان کا تیقن
حیدرآباد : 14 اگست ( سیاست نیوز) دنیا میں ایسے لوگوں کی اکثریت ہے جو خود کیلئے جیتے ہیں ، دوسرے انسانوں کی مدد کرنے ان کی زندگیاں بچانے ،د وسروں کے دکھ درد باٹنے سے ان کا کچھ لینا دینا نہیں ہوتا ، وہ اپنی زندگی میں مست رہتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کا جینا مرنا کوئی زیادہ اہمیت نہیں رکھتا جبکہ کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو دوسرو ں کیلئے جیتے ہیں، دوسرو ں کی زندگیاں بچانے اپنی زندگی خطرہ میں ڈال دتے ہیں جن میں ایثار و قربانی ، ہمدردی اور سب سے بڑھ کر انسانیت کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوتا ہے ۔ ایسے ہی لوگوں میں حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے بہادر و دلیر نوجوان رحمت پاشاہ بھی شامل ہیں جنہوں نے آسٹریلیا کے بونڈی جھیل پر ( جو کہ ایک مشہور تفریحی مقام ہے ) ایک دو کی نہیں بلکہ 20لوگوں کی زندگیاں بچائیں اور نسلی منافرت کے باعث فائرنگ واقعہ میں بے شمار مرد و خواتین کی زندگیاں بچاکر رحمت پاشاہ نے اپنے شہر حیدرآباد اپنی ریاست تلنگانہ اور اپنے ملک ہندوستان کا نام روشن کیا ۔ رحمت پاشاہ آج نیوز ایڈیٹر سیاست جناب عامر علی خاں سے ملاقات کیلئے دفتر روزنامہ ’سیاست ‘ آئے ۔ اس سے قبل وہ چیف منسٹر ریونت ریڈی ، بی آر ایس کے کارگزار صدر کے ٹی آر ، کے کویتا اور دیگر سے ملاقات کی ۔ تاہم افسوس کی بات یہ رہی کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی یا ان کی حکومت نے آسٹریلیا ہی نہیں بلکہ ساری دنیا میں ریاست تلنگانہ کا نام روشن کرنے والے رحمت پاشاہ کیلئے کسی ایوارڈ کا اعلان کیا نہ ہی کوئی اراضی وغیرہ دینے کا تیقن دیا ۔ اس کے برعکس حکومت آسٹریلیا نے فوری طور پر انہیں ( رحمت پاشاہ ) کو وہاں کا پی آر دے دیا ، ساتھ ہی شجاعت ایوارڈ سے بھی نوازا ۔ جہاں تک مرکزی حکومت کا سوال ہے 15 اگست کو یوم جشن آزادی کے موقع پر رحمت پاشاہ کو شجاعت ایوارڈ سے نواز سکتی تھی لیکن اس نے ایسا نہیں کیا جس پر افسوس ہی کی کیا جاسکتا ، بہرحال جناب عامر علی خاں نے رحمت پاشاہ کو تیقن دیا کہ انہوں نے بے قصور لوگوں کی زندگیاں بچاکر جو کارنامہ انجام دیا ہے اس کیلئے وہ مرکزی و ریاستی حکومتوں سے نمائندگی کریں گے کہ ملک کا نام روشن کرنے والے اس نوجوان کو شجاعت ایوارڈ سے نوازے ۔ واضح رہے کہ 14 ڈسمبر 2025ء کو سڈنی کے یونڈی تفریحی مقام پر نسلی منافرت کے نتیجہ میں کی گئی فائرنگ واقعہ میں 15 افراد ہلاک اور 40 سے زائد زخمی ہوئے تھے ۔ اس وقت 44سالہ احمد الاحمد نے بھی اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے فائرنگ کرنے والے پر قابو پایا تھا ، نتیجہ میں وہ زخمی ہوئے تھے ۔ احمد الااحدم کو ایک ہیرو کی طرح پیش کیا گیا اور انہیں 2ملین ڈالرس کا عطیہ بطور انعام دیا گیا جبکہ رحمت پاشاہ احمد الاحمد کی طرح توجہ حاصل نہیں کرسکے ۔ اگر ہمارے چیف منسٹر ریونت ریڈی رحمت پاشاہ کو شہر میں بطور انعام اراضی فراہم کرتے ہیں تو یہ بہت اچھا ہوگا ۔ جناب عامر علی خاں کے مطابق وہ رحمت پاشاہ کو شجاعت ایوارڈ دلانے کی ہرممکنہ کوشش کریں گے ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ رحمت پاشاہ اصل میں وقارآباد کے رہنے والے ہیں ، فی الوقت مہندی پٹنم میں مقیم ہیں ۔ ان کے والد محمد عظمت پاشاہ وقارآباد میں کرانہ کی دکان چلاتے ہیں جبکہ والدہ طیبہ بیگم خاتون خانہ ہیں ۔حال ہی میں رحمت پاشاہ کو آسٹریلین ٹریڈ اینڈ انوسٹمنٹ کمشنر مسٹر ناتھن ڈیوس کے ہاتھوں AAERI نے شجاعت ایوارڈ سے نوازا ۔ رحمت پاشاہ 2022 میں آسٹریلیا گئے تھے اور چیف کورس میں انہوں نے ڈپلوما حاصل کیا ، وہ شادی شدہ اور 3بچوں کے باپ ہیں ، اپنی بیٹی کو آئی اے ایس بنانا ان کا خواب ہے ۔