عثمانیہ آرٹس کالج، عثمانیہ دواخانہ کے نقش قدم پر !

   

حیدرآباد۔2۔اگسٹ(سیاست نیوز) جامعہ عثمانیہ آرٹس کالج کی تاریخی عمارت یونیورسٹی انتظامیہ اور حکومت کی لاپرواہی کا نمونہ بنتی جا رہی ہے۔ جامعہ عثمانیہ اپنی صد سالہ تقاریب منا رہی ہے اور دنیا کے مختلف ممالک میں موجود فارغین عثمانیہ عثمانیہ صدی تقاریب کا حصہ بن رہے ہیں لیکن حکومت کی جانب سے صدی تقاریب کے دوران عثمانیہ یونیورسٹی کی فن تعمیر کا شاہکار آرٹس کالج کی عمارت کو تباہ ہونے کے لئے چھوڑ دیا گیا ہے۔ حکومت تلنگانہ اور آثارقدیمہ شہر حیدرآباد کے تہذیبی ورثہ کی تباہی کے مؤجب بننے لگے ہیں کیونکہ حکومت کی عدم توجہی کے سبب شہر حیدرآباد کی شناخت تصور کئے جانے والی عمارتیں بوسیدہ ہوتے ہوئے منہدم ہونے کے قریب پہنچ چکی ہیں۔ ریاستی حکومت تلنگانہ نے جامعہ عثمانیہ صدی تقاریب کے دوران آرٹس کالج کی عمارت کی داغ دوزی اور آہک پاشی کے علاوہ اس کے تحفظ کو یقینی بنانے کے اعلانات کئے تھے اور اس کے لئے بجٹ کی تخصیص کا بھی فیصلہ کیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود جامعہ عثمانیہ آرٹس کالج کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہاہے جس کی وجہ سے یہ عظیم الشان پرشکوہ تاریخی عمارت کی نہ صرف چھت ٹپکنے لگی ہے بلکہ مختلف مقاما ت پر آرٹس کالج کی چھت جھڑتی جا رہی ہے۔ آرٹس کالجس کی دیواریں جو پتھر کی ہیں ان میں بھی اب پانی پسیجنے لگا ہے۔ شہر حیدرآباد کے تہذیبی ورثہ کے تحفظ کے لئے جدوجہد کرنے والوں نے اس سلسلہ میں متعدد مرتبہ یونیورسٹی کے ذمہ داروں کے علاوہ ریاستی حکومت کو متوجہ کروایا ہے لیکن اس کے باوجود اس عمارت کی تزئین نو و آہک پاشی کے اقدامات کا آغاز نہیں کیاگیا بلکہ ان نمائندگیوں کومسلسل نظرانداز کیا جا رہاہے۔ آرٹس کالج میںتعلیم حاصل کرنے والے طلبہ نے بھی یونیورسٹی انتظامیہ کو عمارت کے مخدوش ہونے کے سبب پیدا شدہ خطرات سے واقف کروایا ہے ۔ پرنسپل سیکریٹری محکمہ بلدی نظم و نسق مسٹر اروند کمار جو کچھ وقت کے لئے جامعہ عثمانیہ کے انچارج وائس چانسلر کے عہدہ پر فائز تھے انہوں نے آرٹس کالج کی عمارت کے تحفظ کے سلسلہ میں دلچسپی کا مظاہرہ کیا تھا۔م