عثمانیہ یونیورسٹی میں احتجاج پر پابندی غیر جمہوری فیصلہ

   

اسمبلی میں سی پی آئی رکن کا استدلال، دھرنا چوک پر احتجاج کی اجازت دینے کی اپیل
حیدرآباد 18 مارچ (سیاست نیوز) سی پی آئی کے رکن کے سامبا سیوا راؤ نے عثمانیہ یونیورسٹی میں طلبہ کے احتجاج اور دھرنوں پر پابندی سے متعلق احکامات کو غیر جمہوری قرار دیا اور حکومت سے مطالبہ کیاکہ یونیورسٹی کو احکامات واپس لینے کی ہدایت دی جائے۔ اسمبلی میں وقفہ صفر کے دوران سامبا سیوا راؤ نے کہاکہ یونیورسٹی حکام نے سرکولر جاری کرتے ہوئے کسی بھی احتجاج، دھرنے اور نعرے بازی پر پابندی عائد کردی ہے۔ عثمانیہ یونیورسٹی نہ صرف تلنگانہ تحریک بلکہ دیگر کئی تحریکات کا مرکز رہا ہے۔ علیحدہ تلنگانہ تحریک کو یونیورسٹی طلبہ نے تقویت عطاء کی تھی۔ یونیورسٹی میں احتجاج پر پابندی عائد کرنا غیر جمہوری فیصلہ ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ وائس چانسلر کو اِس سلسلہ میں طلبہ تنظیموں سے بات چیت کرنی چاہئے۔ سامبا سیوا راؤ نے بتایا کہ دھرنا چوک پر اسمبلی اجلاس کے دوران سیاسی اور غیر سیاسی تنظیموں کو احتجاج کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ اسمبلی اجلاس کے موقع پر احتجاج کی صورت میں حکومت تک مسائل پہونچ پاتے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ بی آر ایس دور حکومت میں دھرنا چوک کو بند کردیا گیا تھا جسے کانگریس حکومت نے بحال کیا۔ سامبا سیوا راؤ نے کہاکہ عام دنوں کے علاوہ اسمبلی اجلاس کے دوران بھی دھرنے کی اجازت دی جائے۔ اُنھوں نے کانگریس کے انتخابی وعدے کے مطابق جہدکاروں کو فی کس 250 گز اراضی الاٹ کرنے کا مطالبہ کیا۔ وزیر زراعت ٹی ناگیشور راؤ نے اِس معاملہ کا نوٹ لیتے ہوئے ضروری کارروائی کا تیقن دیا۔ 1