طلبہ کے مستقبل اور زندگیوں سے کھلواڑ نہ کرنے کا حکومت کو مشورہ
حیدرآباد ۔ 29 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز ) : بی آر ایس کے سربراہ سابق چیف منسٹر کے سی آر نے عثمانیہ یونیورسٹی میں برقی اور پینے کے پانی کی قلت پیدا ہوجانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طلبہ کے مستقبل اور زندگیوں سے کھلواڑ کرنے کا چیف منسٹر اے ریونت ریڈی پر الزام عائد کیا ۔ واضح رہے کہ عثمانیہ یونیورسٹی کے طلبہ پانی اور برقی کے مسائل پر احتجاج کررہے ہیں ۔ جس پر یونیورسٹی انتظامیہ نے طلبہ کو ایک ماہ تک تعطیلات کا اعلان کرتے ہوئے طلبہ کو ہاسٹلس خالی کرتے ہوئے گھروں کو جانے کی نوٹس جاری کی ہے ۔ جس پر سوشیل میڈیا کے پلیٹ فارم ایکس پر کے سی آر نے سخت ردعمل کا اظہار کیا اور کہا کہ تعطیلات کا اعلان کردینا مسئلہ کا حل نہیں ہے ۔ بلکہ حکومت کو جنگی خطوط پر اقدامات کرتے ہوئے عثمانیہ یونیورسٹی کے طلبہ کو پینے کے پانی اور برقی کا انتظام کیا جانا چاہئے تھا طلبہ عثمانیہ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرتے ہوئے ہاسٹلس میں رہ کر مسابقتی امتحانات اور ملازمتوں کے امتحانات کی تیاری کرتے ہیں حکومت نے طلبہ کے احتجاج پر کوئی توجہ نہیں دی اور تعطیلات کا اعلان کرتے ہوئے طلبہ کے مستقبل اور ان کی زندگیوں سے کھلواڑ کررہی ہے جس کی وہ سخت مذمت کرتے ہیں ۔ کے سی آر نے کہا کہ جب سے ریاست میں کانگریس کی حکومت قائم ہوئی تب سے تلنگانہ میں برقی بحران اور پانی کی قلت پیدا ہوئی ہے ۔ تاہم گذشتہ 4 ماہ سے ڈپٹی چیف منسٹر ملو بٹی وکرامارک پانی اور برقی کی کوئی قلت نہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے ریاست کے عوام کو گمراہ کررہے ہیں ۔ لیکن شہر کے مشہور عثمانیہ یونیورسٹی کی تازہ صورتحال اس کی زندہ مثال ہے ۔ بی آر ایس جو الزام عائد کررہی ہے وہ درست ثابت ہوئی ہے ۔۔ 2