عثمانیہ یونیورسٹی پروفیسرس کی ترقیوں میں بے قاعدگیاں !

   

یو جی سی نے 2 پروفیسرس پر الزامات کی تصدیق کی ، عہدیداروں پر پسند کے پروفیسرس کو ترقی دلانے کی شکایت
حیدرآباد۔ 22 جنوری (سیاست نیوز) عثمانیہ یونیورسٹی کے سینئر پروفیسر کی ترقیوں میں بے قاعدگیاں ہونے کا پتہ چلا ہے۔ اس مسئلہ پر عثمانیہ ٹیچر اسوسی ایشن (اوٹا)کے نمائندوں کی شکایت پر یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) نے ردعمل کا اظہار کیا۔ دو ترقی یافتہ امیدواروں کے ذریعہ جمع کرائے گئے کچھ تحقیقی مقالے ’’کیر جرنلس‘‘ میں شائع نہیں ہوئے۔ قواعد کے مطابق سینئر پروفیسر کے عہدہ پر ترقی پانے کیلئے بطور پروفیسر 10 سال کا تجربہ ہونا لازمی ہے۔ ان کے تیار کردہ 10 تحقیقی مقالے UGC CARE کے جرائد میں شائع ہونے چاہئے، لیکن سابق وائس چانسلر پروفیسر بی رویندر کے ذریعہ جمع کرائے گئے 10 تحقیقی مقالوں میں سے 8 یو جی سی کیئر جرنلس میں شائع نہیں ہوئے تھے۔ طلبہ تنظیم AISF کے نمائندوں لینن این ستیہ نے ان باقاعدگیوں کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ عثمانیہ یونیورسٹی کے پروفیسرس کی ترقیوں میں بے ضابطگیاں ہونے کی اوٹاکی جانب سے 15 ماہ قبل حکومت سے شکایت کی گئی تھی۔ تقریباً 20 پروفیسرس کے خلاف اس طرح کی شکایتیں درج کروائی گئی تھیںجس کے تناظر میں حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی کمیٹی گزشتہ سال مارچ ہی میں اپنی رپورٹ پیش کردی تھی لیکن جب کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ یو جی سی کی جانب سے ارسال کردہ مکتوب میں اس بات کی تصدیق ہوئی کہ2 پروفیسرس کی ترقیوں میں بے قاعدگیاں ہوئی ہیں۔ عثمانیہ یونیورسٹی میں چند عہدیداروں نے اپنے پسند کے پروفیسرس کو ترقی دلائی ہے۔ اوٹا کے صدرپروفیسر ڈی منوہر نے بتایا کہ اس مسئلہ کو عثمانیہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر کمار سے رجوع کیا گیا ہے۔ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن 2018 کے قواعد کے مطابق تحقیقی مقالوں کو یو جی سی جرنلس میں شائع کروانا لازمی ہے۔ عثمانیہ یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر بی رویندر نے اس بات کی تصدیق کی ہے۔2