عثمانیہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کی زبوں حالی،تین جزوقتی ٹیچرس پر ڈپارٹمنٹ کا انحصار

   

حیدرآباد ۔22۔ اگست (سیاست نیوز) ملک میں اردو ذریعہ تعلیم کی پہلی یونیورسٹی کا اعزاز رکھنے والی عثمانیہ یونیورسٹی میں آج اردو زبان زبوں حالی کا شکار ہے۔ اردو ذریعہ تعلیم ختم ہوگیا لیکن اب یونیورسٹی میں شعبہ اردو کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ عثمانیہ یونیورسٹی کالج آف آرٹس اینڈ سوشیل سائنسیس میں واقع اردو ڈپارٹمنٹ میں کوئی مستقل فیکلٹی موجود نہیں جو طلبہ کو تعلیم دے سکے۔ 2021 میں صدر شعبہ اردو کی وظیفہ پر سبکدوشی کے بعد سے ڈپارٹمنٹ کو تین پارٹ ٹائم ٹیچرس کے ذریعہ چلایا جارہا ہے ۔ مستقل فیکلٹی ارکان کی کمی کے سبب اردو ڈپارٹمنٹ کی نگرانی عربی ڈپارٹمنٹ کے فیکلٹی ممبر کو دی گئی ہے جو کالج کے پرنسپل کی اضافی ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہیں۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ چار مضامین کیلئے تین جزوقتی ٹیچرس کلاسس کا اہتمام کر رہے ہیں۔ عثمانیہ یونیورسٹی جو ملک کی قدیم یونیورسٹیز میں شامل ہے۔ آصف سابع نواب میر عثمان علی خاں نے 26 اپریل 1917 میں قائم کیا تھا۔ یہ اردو ذریعہ تعلیم کی ملک میں پہلی یونیورسٹی تھی۔ 28 اگست 1918 کو دیگر زبانوں سے ترجمہ کیلئے اردو ڈپارٹمنٹ قائم کیا گیا۔ 1923 میں ایم اے اردو کا پہلا کورس شروع ہوا۔ عثمانیہ یونیورسٹی میں 1267 منظورہ پوسٹ ہیں جبکہ یونیورسٹی کے تحت 53 ڈپارٹمنٹس ہیں۔ 900 سے زائد ٹیچنگ اسٹاف کی جائیدادیں مخلوعہ ہیں۔ اگر عثمانیہ یونیورسٹی میں اردو ڈپارٹمنٹ کا تحفظ نہیں کیا تو آنے والے دنوں میں اردو ڈپارٹمنٹ کا وجود بے معنی ہوکر رہ جائے گا۔1