عدالتوں میں اے پی پی، جی پی اور دیگر عہدوں میں مسلم وکلاء سے ناانصافی

   

آل تلنگانہ مسلم ایڈوکیٹس فورم کے وفد کی عامر علی خان سے ملاقات، تحریری یادداشت پیش

حیدرآباد ۔ 2 مارچ (سیاست نیوز) آل تلنگانہ مسلم ایڈوکیٹس فورم کے ذمہ داروں نے رکن قانون ساز کونسل عامر علی خان سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں ایک تحریری یادداشت پیش کی۔ ہائیکورٹ اور مختلف نچلی عدالتوں بشمول ڈسٹرکٹ کورٹس میں مسلم وکلاء کو اے پی پی، جی پی، اے جی پی اور اسٹینڈنگ کونسلس میں مناسب نمائندگی دینے کی حکومت سے نمائندگی کرنے کی اپیل کی۔ اس وفد میں فورم کے صدر محمد منظور نعیم، نائب صدر محمد حبیب الدین اور جنرل سکریٹری شیخ احمد ایاز شامل تھے۔ جناب عامر علی خان نے وفد کو تیقن دیا کہ وہ اس سلسلہ میں حکومت سے نمائندگی کریں گے۔ فورم کے وفد نے شکایت کی کہ مذکورہ عہدوں کی تقسیم میں مسلم وکلاء کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے بلکہ ان عہدوں کیلئے اہل اور مستحق ہونے کے باوجود مسلم وکلاء کو نظرانداز کردیا جارہا ہے۔ ایڈیشنل پراسیکیوٹرس، گورنمنٹ پلیڈرس، اسسٹنٹ گورنمنٹ پلیڈرس کے عہدوں میں مسلم وکلاء کو مناسب حصہ نہیں ملا ہے۔ جاریہ ہفتہ 11 گورنمنٹ پلیڈرس اور 44 اسسٹنٹ گورنمنٹ پلیڈرس کا تقرر کیا گیا جس میں صرف ایک مسلم ایڈوکیٹ کو جی پی اور ایک مسلم ایڈوکیٹ کو اے جے پی مقرر کیا گیا ہے جبکہ سابق بی آر ایس کے دورحکومت میں 5 مسلم وکلاء کو جی پیز اور 8 مسلم وکلاء کو اے جی پیز کی حیثیت سے تقرر کیا گیا تھا۔ ہم امید کرتے ہیں کانگریس کے دورحکومت میں 8 مسلم وکلاء کو جی پیز اور 10 مسلم وکلاء کو اے جی پیز کی حیثیت سے تقرر کیا جائے گا۔ کانگریس اور تلگودیشم کے دورحکومت میں یہ روایت رہی تھی۔ ایک مسلم ایڈوکیٹ کو ایڈیشنل پبلک پراسیکیوٹر بنایا جاتا تھا لیکن افسوس امریہ ہیکہ سابق بی آر ایس حکومت نے اس روایت کو ختم کردیا تھا۔ کانگریس حکومت اس روایت کا دوبارہ احیا کریں۔ پچھلی حکومت نے صرف 3 مسلم وکلاء کو اسٹینڈنگ کونسلس بنایا تھا۔ امید ہے اس مرتبہ 5 تا 7 مسلم وکلاء کو اسٹینڈنگ کونسل مقرر کیا جائے گا۔ اس طرح ضلعی عدالتوں اور منصف کی عدالتوں میں بھی ایک مسلم ایڈوکیٹ کو پی پی، ایڈیشنل پی پی، جی پی اور اے جی پی ہر ڈسٹرکٹ کورٹس، سینئر سیول جج کورٹس اور منصف کورٹس میں تقرر کئے جائیں گے۔2