سی ای او اور شعبہ قانون کے حکام کے ساتھ آج صدر نشین بورڈ کا اجلاس ہوگا
حیدرآباد۔27۔ستمبر۔(سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ عدالتوں میں جاری مقدمہ اور ان میں شکست پر اب حرکت میں آچکا ہے اور صدرنشین وقف بورڈ جناب سید عظمت اللہ حسینی نے چیف اکزیکٹیو آفیسر وقف بورڈ جناب محمد اسداللہ ‘ شعبہ قانون کے ذمہ داروں کے علاوہ تمام اسٹینڈنگ کونسل کے ہمراہ اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ 28ستمبر کو وقف بورڈ کے اسٹینڈنگ کونسل اجلاس میں شرکت کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ تلنگانہ ہائی کورٹ کے علاوہ تلنگانہ وقف ٹریبونل میں جاری مقدمات کا جائزہ اور وقف بورڈ کے شعبہ لیگل کی لاپرواہیوں کا جائزہ لیا جاسکے۔ذرائع سے کے مطابق ہائی کورٹ میں مسلسل وقف جائیدادوں کے گزٹ کالعدم قرار دیئے جانے کی شکایات اور مقدمات میں شکست کے باوجود کسی کارروائی یا اپیل میں تاخیر کی مسلسل خبروں کے بعد صدرنشین بورڈ جناب سید عظمت اللہ حسینی نے سی ای او‘ شعبہ قانون ‘ کے علاوہ اسٹینڈنگ کونسل کے ہمراہ اجلاس منعقد کرنے کافیصلہ کیا ہے۔ صدرنشین نے عہدیداروں کو تمام تفصیلات کے ساتھ اجلاس میں شرکت کی ہدایت دی ۔گذشتہ چند ہفتوں میں تلنگانہ ہائی کورٹ میں جن مقدمات تلنگانہ وقف بورڈ کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے ان میں کئی اہم اوقافی اداروں کے تحت موجود اراضیات شامل ہیں۔ درگاہ حضرت شاہ راجو قتال حسینی ؒ کے تحت ’کونگراخرد‘ میں واقع اراضیات سے متعلق مقدمات میں مسلسل شکست اور سابقہ فیصلوں کو بنیاد بناکر داخل مقدمات میں فیصلوں پر نظرثانی کے علاوہ کوہ امام ضامن کے تحت ترملگیری میں موجود وقف جائیداد سے متعلق مقدمات میں شکست ‘ ملکا جگری میں قیمتی اوقافی جائیدادوں کے معاملہ میں درخواستوں پر کاروائی و جامعہ نظامیہ کے تحت 510ایکڑ 35 گنٹہ وقف اراضی کے متعلق مقدمہ میں وقف بورڈ کے موقف کا اجلاس میں جائزہ لیا جانا چاہئے ۔علاوہ ازیں اجلاس میں عدالت میں گذشتہ 6ماہ کے دوران جن مقدمات میں شکست ہوئی ہے ان میں اپیلوں کے متعلق تفصیلات طلب کی جانی چاہئے تاکہ یہ پتہ چل سکے کہ جن مقدمات میں وقف بورڈ کو شکست یا گزٹ کالعدم قرار دیئے جانے کے سبب نقصان پہنچا ہے آیا ان مقدمات میں بورڈ کے عہدیدارو ں یا شعبہ قانون نے فوری حرکت میں آکر فیصلہ کے خلاف اپیل کی ہے یا نہیں ! عدالت میں جاری مقدمات میں اسٹینڈنگ کونسل کی عدم موجودگی کے سبب جن مقدمات میں شکست کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ان کا جائزہ لینے کے علاوہ بعض اسٹینڈنگ کونسل کو مخصوص ہدایات کے وکالت اور جوابی حلف نامہ کا بھی جائزہ لینے اور بورڈ کے جواب کی تیاری کے عمل کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔3