حیدرآباد۔22۔مئی (سیاست نیوز) عراق میں وبائی ہیمریج بخار سے ہونے والی اموات نے حکومت کو پریشان کردیا ہے کیونکہ ہیمریج بخار سے ہونے والی اموات کے متعلق ماہرین کا کہناہے کہ جس رفتار سے شریانوں کے پھٹنے کے سبب اموات ہورہی ہیں وہ ناقابل یقین ہے کیونکہ عام طور پر اس طرح سے بخار کی شدت نہیں ہوتی کہ شریانوں کے پھٹنے کا سبب بن جائیں۔ عراق میں گذشتہ دنوں کے دوران اس بیماری میں مبتلاء 90 افراد کی نشاندہی کی گئی اور 18 افراد کی موت واقع ہوئی ہے۔ماہرین کے مطابق اس بخار کی وجوہات کا جائزہ لیا جا رہاہے لیکن تیزی سے ہونے والی اموات مشکل صورتحال پیدا کرنے کا سبب بن رہی ہے۔ہیمریج بخار جس میں نکسیر چھوٹنا ‘ شریانوں کا پھٹنا ‘ جلد پر سرخ دھبے نمایاں ہونا معمول کی بات ہے اور اس طرح کے بخار سے نمٹنے کے لئے مریض کو فوری علاج اور طبی امداد کی فراہمی یقینی بنانی ہوتی ہے ۔اس بخار کی علامات میں اعضاء شکنی‘ تھکاوٹ‘ جوڑوں میں درد‘ متلی ‘ قئے ‘ دست اور چکر شامل ہیں۔وبائی ہیمریج بخار کی بنیادی وجوہات خون میں پائی جانے والی خامیاں ہیں اور ان خامیوں کی قبل از وقت نشاندہی ضروری ہوتی ہے۔بتایاجاتا ہے کہ عراق میں پائے جانے والے ان مریضوں اور اس مرض کے سبب ہونے والی اموات کے سلسلہ میں عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے بھی جائزہ لیا جا رہا ہے اور اس بات کا پتہ لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ عراق میں وبائی ہیمریج بخار کی وجوہات کیا ہیں کیونکہ کثر ایبولا کا شکار ہونے والے مریضوں کو اس بخار کے سبب زندگی سے محروم ہوتے دیکھا گیا تھا۔م