12 ہزار کی تعداد میں فوجی بیڑے کی طاقت، چین دوسرے اور ہندوستان چھٹویں نمبر پر
حیدرآباد 18 اگست (سیاست نیوز) کسی بھی ملک کی فوجی طاقت کا اندازہ عسکری بیڑے کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ جس ملک کا عسکری بیڑا تینوں شعبہ جات میں غیرمعمولی صلاحیتوں کا حامل ہو اُسے زیادہ فوجی طاقتور ملک تصور کیا جاتا ہے۔ عسکری بیڑے میں فوجی گاڑیوں اور ٹینکوں کے بنیادی ڈھانچے کو غیرمعمولی اہمیت حاصل ہوتی ہے جو گاڑیوں اور ٹینکوں کے تحفظ کا ضامن ہوتا ہے۔ زمینی، بحریہ اور فضائیہ تینوں شعبہ جات میں عسکری بیڑے کے اعتبار سے امریکہ دنیا میں سرفہرست ہے۔ فوجی بیڑے کی تعداد اور صلاحیت کے اعتبار سے دنیا کے 10 ممالک کا انتخاب کیا گیا جن میں ہندوستان، اسرائیل اور پاکستان بھی شامل ہیں۔ امریکہ میں 12000 فوجی بیڑے ملک کے دفاع کے لئے دستیاب ہیں جبکہ چین کے عسکری بیڑوں کی تعداد 8500 ریکارڈ کی گئی ہے۔ 5000 فوجی بیڑے کے ساتھ روس تیسرے اور ایران 3700 فوجی بیڑے کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہے۔ ترکی میں عسکری بیڑے کی تعداد 2800 درج کی گئی جبکہ ہندوستان میں 2100 فوجی بیڑا ملک کی فوجی طاقت میں اضافہ کا مظہر ہے۔ اسرائیل کے عسکری بیڑوں کی تعداد 1800 ریکارڈ کی گئی جبکہ فرانس 1300 اور برطانیہ کے پاس 1100 کی تعداد میں فوجی بیڑا موجود ہے۔ پاکستان کو تینوں فوجی شعبہ جات میں عسکری بیڑے کی تعداد 1000 ریکارڈ کی گئی ہے۔ دنیا کے اہم ممالک میں فوجی طاقت میں اضافہ کے لئے حالیہ برسوں میں غیرمعمولی مسابقت دیکھی جارہی ہے۔ امریکہ، روس، اسرائیل اور ایران کے علاوہ چین بھی وقفہ وقفہ سے اپنے حریف ممالک کے ساتھ نبرد آزما دکھائی دیتے ہیں۔ ایران کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کی جنگ ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی ہے۔ اِن حالات میں اہم ممالک نے اپنے اپنے دفاع کے لئے فوجی طاقت میں اضافہ پر توجہ دی ہے۔ جس ملک کی ضرورت جس شعبہ میں ضروری ہے اُس پر توجہ دی گئی اور بیشتر ممالک فضائیہ اور بحریہ کے استحکام میں مصروف ہیں۔V/1/k/b