مرکزی حکومت کے سوتیلے سلوک کے باوجود ریاست ’رائزنگ تلنگانہ‘ کی سمت گامزن
حیدرآباد۔ 21 مارچ (سیاست نیوز) صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی و ایم ایل سی مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ وزیر فینانس و ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا کے پیش کردہ بجٹ کو ’’عوامی حکومت کا عوامی بجٹ‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کونسل میں بجٹ مباحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ کانگریس حکومت نے اندرون ایک سال 25 لاکھ کسانوں کے 20 ہزار کروڑ روپئے سے زائد قرض کو معاف کردیا۔ سابق چیف منسٹر کے سی آر نے ماہرین آبپاشی اور انجینئرس کی رائے حاصل کئے بغیر خود کو انجینئر سمجھتے ہوئے کالیشورم پراجیکٹ ڈیزائن کیا ہے جو آج منہدم ہورہا ہے۔ صرف کمیشن کی خاطر کالیشورم پراجیکٹ تعمیر کیا گیا، جس پر 1.4 لاکھ کروڑ روپئے کے مصارف آئے۔ کالیشورم پراجیکٹ کو اہمیت دیتے ہوئے دوسرے پراجیکٹس کو نظرانداز کردیا۔ بی آر ایس حکومت کی پہلے پانچ سالہ میعاد میں کابینہ میں خاتون کو نمائندگی نہیں دی گئی، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بی آر ایس میں خواتین کی کتنی اہمیت ہے۔ جبکہ کانگریس نے خواتین کو اہمیت دیتے ہوئے ان کیلئے گیاس سلنڈر پر سبسڈی دی جس سے 50 لاکھ خاندان مستفید ہورہے ہیں۔ اس اسکیم میں مرکزی حکومت کا کوئی تعاون نہیں ہے۔ اس کے علاوہ مکانات کو 200 یونٹ مفت برقی سربراہ کی جارہی ہے۔ بی آر ایس کے 10 سالہ دور حکومت میں صرف 50 ہزار سرکاری ملازمتیں فراہم کی گئیں جبکہ ایک سال میں تقریباً 60 ہزار ملازمتیں فراہم کی ہیں۔ علیحدہ تلنگانہ کی تحریک کیلئے قربانی دینے والوں کو نہ ایم ایل اے بنایا گیا، نہ منسٹر بنایا گیا اور نہ ہی ایم ایل سی بنایا گیا بلکہ جسم پر کیروسین چھڑک کر ماچس تلاش کرنے والے ہریش راؤ کو وزارت میں شامل کیا گیا۔ مہیش کمار گوڑ کے اس ریمارک پر کویتا کے بشمول بی آر ایس کے دیگر ارکان اپنی نشستوں سے اُٹھ کر احتجاج کیا۔ مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ آروگیہ شری کی 5 لاکھ روپئے کی حد کو بڑھاکر کانگریس حکومت نے 10 لاکھ روپئے کیا۔ تاحال 90 افراد نے اس اسکیم سے فائدہ حاصل کیا۔ بی آر ایس کے 10 سالہ دور حکومت میں ریاست میں 25 ہزار کروڑ روپئے کی بھی سرمایہ کاری نہیں ہوئی جبکہ کانگریس کے ایک سالہ دور حکومت میں چیف منسٹر ریونت ریڈی کی زیرقیادت ریاست کو ایک لاکھ 76 ہزار کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری ہوئی جس سے نہ صرف ریاست کی ترقی ہوگی بلکہ نوجوانوں کو بڑے پیمانے پر ملازمتیں ملیں گی۔ کانگریس حکومت ، تعلیم اور طب پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ بی آر ایس حکومت میں امتحانی پرچہ افشاء ہوا کرتے تھے، طلبہ کے مستقبل سے کھلواڑ کیا جاتا تھا۔ اسپورٹس سرگرمیوں کو بھی نظرانداز کردیا گیا تھا۔ کانگریس حکومت نے پہلے سال اسپورٹس کیلئے 310 کروڑ روپئے کا بجٹ مختص کیا تھا اور دوسرے سال اس میں اضافہ کرکے 400 کروڑ روپئے کردیا گیا۔ مرکزی حکومت تلنگانہ سے فنڈس کی فراہمی میں سوتیلا سلوک کررہی ہے، تلنگانہ سے بڑے پیمانے پر مرکز کو ٹیکس حاصل ہورہا ہے، لیکن مرکز، تلنگانہ کو فنڈس کی اجرائی میں جانبداری سے کام لے رہا ہے۔ 2