میں چوٹ کھا کے بھی تجھ سے نہیں ہوا مایوس
ستم کے بعد کرم تیرا بے شمار رہا
دہلی کے رام لیلا میدان پر بالآخر اپوزیشن انڈیا اتحاد کی جماعتوں کی احتجاجی ریلی چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور ایس آئی آر کے عمل کے خلاف منعقد ہوئی ۔ اس ریلی نے ایک طرح سے تاریخ رقم کی ہے ۔ لاکھوں کی تعداد میں لوگ اس ریلی میں شریک ہوئے ہیں۔ اس ریلی نے ملک کے برسر اقتدار طبقہ اور الیکشن کمیشن کو ایک واضح پیام دیا ہے کہ وہ ووٹ چوری کو برداشت کرنے تیار نہیں ہیں ۔ انہوں نے یہ بھی واضح کردیا کہ ووٹ چوری محض ایک الزام نہیں ہے بلکہ ایک منظم سازش کے تحت ووٹ چوری ہوئی ہے اور اسی چوری کے ذریعہ سے اقتدار بھی حاصل کرلیا گیا ہے ۔ ایک ریلی کے ذریعہ جو پیام دیا گیا ہے وہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔ عوام کے مختلف طبقات نے اس میں شرکت کرتے ہوئے حکومت اور الیکشن کمیشن کے خَاف اپنی ناراضگی کو انتہائی واضح انداز میں پیش کردیا ہے ۔ بی جے پی کے قائدین اور حکومت کے ذمہ داروں کی جانب سے اس ریلی کے خلاف جس طرح کی بیان بازیاں کی جا رہی ہیں اس سے ان کی بوکھلاہٹ کا ثبوت مل رہا ہے ۔ یہ پتہ چل رہا ہے کہ وہ لوگ عوام میں جس طرح کا شعور بیدار ہو رہا ہے اس سے بوکھلاہٹ کا شکار ہو رہے ہیں اور انہیں یہ اندیشے ستانے لگے ہیں کہ یہ تحریک اب سارے ملک میں پوری شدت کے ساتھ آگے بڑھے گی اور لوگ جوق در جوق اس سے جڑتے چلے جائیں گے اور انہیں روکنا ممکن نہیں رہ جائے گا ۔ ووٹ چوری کوئی معمولی مسئلہ بھی نہیں ہے ۔ یہ ملک کی جمہوریت کو کھوکھلا کرنے الا مسئلہ ہے اور اس کے ذریعہ ملک کے کروڑوں افراد کو ان کے ووٹ کے حق سے محروم کرنے کی سازش کو عملی جامہ پہنایا جا رہا ہے ۔ یہ سازش ہندوستان کی مثالی جمہوریت کیلئے خطرہ بن گئی ہے اور ملک کے عوام کو اب اس بات کا احساس ہوگیا ہے اور وہ اس کا سلسلہ مزید آگے بڑھتے دیکھنا نہیں چاہتے اور کسی بھی قیمت پر اس کو روکنا اور بند کرنا چاہتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ برسر اقتدار طبقہ اس عوامی تحریک سے متفکر ہے اورا س کو بدنام اور رسواء کرنا چاہتا ہے ۔
جس طرح سے دہلی کے رام لیلا میدان پر ریلی کامیاب ہوئی اور جتنی تعداد میں عوام نے اس میں شرکت کی اس سے حکومت اور الیکشن کمیشن کی نیندیں اڑنا واجبی ہوگیا ہے ۔ خاص بات یہ ہے کہ اس احتجاج میں سماج کے تقریبا تمام طبقات کی نمائندگی کرنے والے افراد شریک رہے ۔ اس میں غریب عوام ‘ ووٹ سے محروم افراد ‘ طلباء ‘ نوجوان ‘ کسان ‘ وکلاء ‘ سماجی جہد کار اور سیول سوسائیٹی سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہوئے ۔ فنکاروں نے بھی اپنی شرکت درج کروائی ۔ سماج کے ان وسیع تر طبقات کی شمولیت سے یہ پیام بھی دیا گیا ہے کہ یہ کوئی سیاسی لڑائی نہیں ہے اور یہ لڑائی صرف کسی سیاسی جماعت یا اتحاد تے محدود نہیں ہے بلکہ یہ لڑائی ملک کے عوام کی ہے ۔ جمہوریت کو پسند کرنے والوں کی ہے ۔ ملک کے مستقبل کی فکر کرنیو الوںک ی لڑائی ہے ۔ عوام کے حقوق کا تحفظ کرنے والوں کی لڑائی ہے ۔ عوام کو حق دلانے کی لڑائی ہے ۔ کروڑوں ہندوستانیوں کو دوسرے درجہ کا شہری بنانے کے خلاف جدوجہد ہے اور ایسی تمام کوششیں کرنے والوں کو کامیاب ہونے نہیں دیا جائے گا ۔ یہ ایک طرح سے سارے ملک میں پھیلنے والی عوامی تحریک کا نقطہ آغاز بھی کہا جاسکتا ہے اور ہوسکتا ہے کہ یہ موجودہ برسر اقتدار جماعت کے زوال کا بھی نقطہ آغاز بن جائے ۔ عوام کی بیداری اور عوامی شعور حکومت کے حربوں اور ہتھکنڈوں کو ناکام بنانے کی طاقت رکھتا ہے اور موجودہ تحریک بھی اسی کی غمازی کرتی ہے ۔
حالاکہ یہ ریلی دہلی میں منعقد ہوئی لیکن اس میں صرف دہلی کے عوام نے شرکت نہیں کی بلکہ ملک کی تقریبا تمام ریاستوں سے تعلق رکھنے والے افراد یہاں پہونچے تھے ۔ بات صرف سیاسی قائدین کی نہیں ہے بلکہ عام عوام کی ہے جو اپنے حق کیلئے یہاں پہونچے تھے اور انہوں نے ووٹر لسٹ میں الٹ پھیر اور انتخابی قوانین کی دھجیاں اڑائے جانے کے خلاف اپنی حاضری درج کروائی ہے ۔ یہ عوام کی تحریک ہے اور آئندہ وقتوں میں یہ تحریک ہندوستان کے ہر ہر کونے میں پھیلے گی اور رنگ ضرور لائے گی ۔