آسام میں 68 فیصد عوام استفادہ کنندگان میں شامل، تلنگانہ اور آندھرا پردیش کا بہتر مظاہرہ
حیدرآباد ۔ 8 ستمبر (سیاست نیوز) ملک میں غریب خاندانوں کو غذائی اجناس کی سربراہی کے لئے نیشنل فوڈ سیکوریٹی قانون نافذ کیا گیا ہے جس کے تحت ملک کی 56.1 فیصد آبادی کا احاطہ کیا گیا۔ عوامی نظام تقسیم کے تحت استفادہ کنندہ خاندانوں کے اعداد و شمار میں ریاستوں کا مظاہرہ مختلف ہے۔ عوامی نظام تقسیم میں اڈیشہ ملک کی دیگر ریاستوں میں سرفہرست ہے جہاں 69.4 فیصد آبادی کو فوڈ سیکوریٹی ایکٹ کے دائرہ میں شامل کرتے ہوئے غذائی اجناس سربراہ کی جارہی ہے۔ آسام میں 68.2 فیصد آبادی کو عوامی نظام تقسیم کے تحت شامل کیا گیا ہے۔ بہار، جھارکھنڈ، چھتیس گڑھ اور منی پور میں 64 فیصد سے زائد آبادی کو عوامی نظام تقسیم کے استفادہ کنندگان میں شامل کیا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ زائد آبادی والی ریاستوں اترپردیش اور مدھیہ پردیش کا مظاہرہ دیگر ریاستوں کے مقابلے مایوس کن رہا۔ اترپردیش میں 61.1 فیصد اور مدھیہ پردیش میں 60.3 فیصد آبادی کا نیشنل فوڈ سیکوریٹی قانون کے تحت احاطہ کیا گیا ہے۔ گوا، دہلی اور دادر نگر حویلی میں عوامی نظام تقسیم کے تحت محض 17 تا 30 فیصد آبادی کا احاطہ کیا گیا ہے۔ آندھرا پردیش میں 50 فیصد آبادی نیشنل فوڈ سیکوریٹی قانون کے دائرہ کار میں شامل کی گئی جبکہ کرناٹک میں 58.5 فیصد، مہاراشٹرا 52.9 فیصد، راجستھان 52.7 فیصد اور تلنگانہ میں 49.8 فیصد آبادی کو قومی ضمانت غذا قانون کے تحت شامل کیا گیا ہے۔ جاریہ سال مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی جانب سے عوامی نظام تقسیم پر راشن کارڈ ہولڈرس کو تین ماہ کا باریک چاول مفت سربراہ کیا گیا۔ 1؍F a/b/