بوگوٹا: کولمبیا یونیورسٹی امریکہ سے منسلک کالج نے طلبہ کو فلسطینیوں کے حق میں مظاہرہ کرنے پر کالج سے نکال دیا ہے۔ مظاہرہ کرنے والے گروپ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ غزہ جنگ کی مخالفت اور فلسطینیوں کے حق میں مظاہرہ کرنے والے طلبہ کو تعلیم کے حق سے محروم کیا گیا ہے۔ جبکہ کالج انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی کالج کے کلاس رومز میں غیر منظور شدہ خلل ڈالنے کی وجہ سے کی گئی ہے۔کولمبیا یونیورسٹی کے انسانی حقوق سے متعلق گروپ نے طلبہ کی اس برطرفی کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ طلبہ کے خلاف کریک ڈاؤن میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ کیونکہ یہ طلبہ یونیورسٹی کی طرف سے اسرائیلی جنگی مشینری میں سرمایہ کاری واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
یونیورسٹی کی طرف سے کہا گیا ہے کہ پچھلے ماہ جدید اسرائیلی تاریخ کے موضوع پر ایک کلاس میں خلل ڈالا گیا تھا اور کلاس میں ایسا مواد تقسیم کیا گیا تھا جس میں متشددانہ تصاویر بنائی گئی تھیں۔جبکہ پیر کے روز یونیورسٹی نے بیان میں کہا ہے کہ اس نے اس واقعے میں ملوث دو طلبہ کو ریفر کیا تھا۔ جو یونیورسٹی سے ملحق برنارڈ کالج سے متعلق تھے کہ انہوں نے اپنے مادر علمی کے نظم و ضبط کی خلاف ورذی کی۔واضح رہے برنارڈ کالج کی طرف سے بیان میں کہا گیا ہے کہ طلبہ کا تعلیم سے اخراج ہمیشہ ایک غیر معمولی اقدام ہوتا ہے لیکن یہ ہمارا تہیہ ہے کہ ہم سب کو ساتھ لے کر چلیں گے اور تعلیمی ماحول اور ساکھ پر اثر نہیں آنے دیں گے۔