غزہ میں جِلدی بیماری تیزی سے پھیلنے لگی:اقوام متحدہ

   

غزہ، 7 مئی (یو این آئی) اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ غزہ کے پناہ گزین کیمپوں میں جِلدی بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں اور شدید گرمی کے باعث صحت کا نیا بحران جنم لے سکتا ہے ۔ اقوامِ متحدہ کے فلسطینی پناہ گزین ادارے انروا کے مطابق غزہ میں حالیہ مہینوں کے دوران جِلدی بیماریوں کے کیسز میں تین گنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے ۔ادارے کے مطابق خارش، چیچک اور دیگر جلدی امراض خاص طور پر بچوں میں تیزی سے پھیل رہے ہیں، جس کی بڑی وجوہات شدید بھیڑ، خراب صفائی کی صورتحال اور بڑھتی ہوئی گرمی ہیں۔عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق 2024 کے دوران غزہ میں کم از کم ایک لاکھ 50 ہزار افراد مختلف جِلدی امراض کا شکار ہوئے جبکہ طبی سامان کی قلت اور اسرائیلی ناکہ بندی نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے ۔پناہ گزین فوزی النجار نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لاکھوں افراد انتہائی خراب حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جہاں کیمپوں میں جمع کچرا، چوہے ، کھٹمل، پسو اور آوارہ جانور بیماریوں کے پھیلاؤ کا باعث بن رہے ہیں۔اقوامِ متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے بتایا کہ مارچ میں اقوامِ متحدہ کے زیر انتظام کیمپوں میں جِلدی بیماریوں سے متاثرہ افراد کی تعداد بڑھ کر تقریباً 10 ہزار ہو گئی جبکہ جنوری میں یہ تعداد 3 ہزار تھی۔رپورٹس کے مطابق خان یونس میں طبی عملہ ہزاروں خیموں میں جراثیم کش اسپرے کر رہا ہے ، تاہم دواؤں اور اسپرے کی شدید کمی کے باعث تمام کیمپوں تک رسائی ممکن نہیں ہو پا رہی۔