غزہ میں عمارت منہدم، 20فلسطینی جاں بحق، متعدد ملبے تلے دبے

,

   

اسرائیلی بمباری کے نتیجہ میں اس عمارت میں دراڑیں پڑ گئی تھیں ۔ پھنسے لوگوں کو نکالنے کی کارروائی جاری

غزہ، 16 ستمبر (یو این آئی) مغربی غزہ سٹی میں رات کے وقت ایک کثیر المنزلہ رہائشی عمارت منہدم ہونے سے خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 20فلسطینی جاں بحق ہوگئے ، جبکہ چھ خاندانوں کے ملبے تلے دبے ہونے کی اطلاع ہے ۔ مقامی عینی شاہدین اور صحافیوں کے مطابق ملبے کے نیچے متعدد افراد کے پھنسے ہونے کے باعث ہلاکتوں میں اضافہ ہوسکتا ہے ۔غزہ کی شہری دفاعی ٹیم نے بدھ کو بتایا کہ واقعے میں کم از کم 20افراد جاں بحق ہوئے ہیں، جن میں پانچ بچے شامل ہیں۔ الجزیرہ کی جانب سے تصدیق شدہ ویڈیو میں امدادی کارکنوں کو ملبے سے کم عمر بچوں کو نکالتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے ، جبکہ مقامی افراد بھی ہاتھوں سے ملبہ ہٹانے میں امدادی ٹیموں کی مدد کر رہے ہیں۔عینی شاہدین اور تصدیق شدہ ویڈیو کے مطابق کنکریٹ کے ملبے تلے بچوں کی مدد کے لیے چیخنے کی آوازیں سنائی دیتی رہیں، جبکہ شہری دفاع کے اہلکار ملبے میں پھنسے افراد تک پہنچنے کی کوشش کرتے رہے ۔ ایک اور ویڈیو میں ایک کم عمر بچی کو ملبے سے زندہ نکالتے ہوئے دکھایا گیا ہے ۔ متعدد دیگر افراد، جن میں چھوٹے بچے بھی شامل تھے ، ملبے سے نکلنے کے بعد سانس لینے میں دشواری کا شکار دکھائی دیے اور انہیں ایمبولینسوں کے ذریعے منتقل کیا گیا۔مقامی میڈیا کے مطابق اس عمارت کو اس سے قبل اسرائیلی بمباری میں نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے نتیجے میں اس میں دراڑیں پڑ گئی تھیں اور عمارت کا ڈھانچہ کمزور ہوگیا تھا، جس کے بعد وہ منہدم ہوگئی۔جنگ کے دوران غزہ بھر میں ہزاروں مکانات اور اپارٹمنٹ عمارتیں تباہ یا جزوی طور پر منہدم ہو چکی ہیں، جو اب رہائش کے قابل نہیں اور اچانک منہدم ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔اسرائیل کی جانب سے تعمیراتی سامان کی غزہ میں آمد پر پابندیاں عائد کیے جانے کے باعث بہت سے فلسطینی عارضی پناہ گاہوں اور جنگ کے دوران بمباری سے متاثرہ نیم تباہ شدہ عمارتوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ امدادی کارروائیوں کے لیے شہری دفاعی ٹیموں کو درکار بھاری مشینری کی کمی نے بھی ملبہ ہٹانے اور لوگوں کو محفوظ طریقے سے نکالنے کے کام کو مشکل بنا دیا ہے ۔اس کمی کے باعث ایسے حادثات میں امدادی کارکن بڑی حد تک دستی مشقت پر انحصار کر رہے ہیں، جس سے ہنگامی حالات میں پھنسے ہوئے افراد تک پہنچنے اور انہیں بچانے میں مزید وقت لگ رہا ہے ۔