غزہ میں ہلاکتوں اور تباہی پر انٹونیو گوٹیرس کا اظہارتشویش

   

دنیا کی دراڑیں ’گہری کھائیوں‘میں تبدیل ہو رہی ہیں، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے افتتاحی اجلاس سے خطاب

اقوام متحدہ، 22 ستمبر (یو این آئی) اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیرس نے منگل کو خبردار کیا کہ دنیا کی جغرافیائی سیاسی دراڑیں اب ’’گہری کھائیوں‘‘میں تبدیل ہوچکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی سوپر پاور اتنی فوجی، اقتصادی یا تکنیکی طاقت نہیں رکھتی کہ وہ تنہا عالمی سلامتی کی ضمانت دے سکے یا دنیا کو درپیش بڑھتے ہوئے بحرانوں کو حل کر سکے ۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے گوٹیرس نے گزشتہ ایک دہائی کا ایک سنجیدہ جائزہ پیش کیا، جو جنگوں، انسانی بحرانوں، بڑھتی ہوئی عدم مساوات، موسمیاتی تبدیلی اور مصنوعی ذہانت کے تیزی سے ابھرنے سے عبارت رہی ہے ۔گوٹیرس نے کہا کہ ’’جنگیں تباہ کن نتائج کے ساتھ پھوٹ پڑیں اور قابل مذمت سفاکیت کے ساتھ طویل ہوتی گئیں‘‘۔ انہوں نے شہریوں پر حملوں، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، بھوک کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے ، امدادی کارکنوں کے قتل اور بین الاقوامی قانون کی کمزور ہوتی حیثیت کا حوالہ دیا۔انہوں نے خبردار کیا کہ جغرافیائی سیاسی تقسیم مزید گہری ہو گئی ہے ، باہمی اعتماد کمزور پڑا ہے اور موسمیاتی بحران دور کی وارننگ سے نکل کر روزمرہ کی حقیقت بن چکا ہے ۔ اسی دوران مصنوعی ذہانت نے بھی ایسی رفتار سے ترقی کی ہے جس نے اس کے بعض تخلیق کاروں کو بھی حیران کر دیا ہے ۔گوٹیرس نے اسرائیل کا براہ راست نام لیے بغیر کہا کہ اکتوبر 2023 میں حماس کے حملے کے بعد سامنے آنے والے ردعمل کے نتیجے میں غزہ میں ہلاکتوں اور تباہی کی غیرمعمولی سطح دیکھنے میں آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لڑائی بند ہونی چاہیے ، انسانی امداد پہنچنی چاہیے اور غزہ میں انسانی امداد کی رسائی اور اقوام متحدہ کے کردار سے متعلق بین الاقوامی قانونی فیصلوں کا حوالہ دیا۔گوٹیرس نے مقبوضہ مغربی کنارے میں تشدد، بیدخلی اور یہودی بستیوں کی توسیع پر بھی تنقید کی اور خبردار کیا کہ یہ اقدامات امن کے امکانات کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور نسلی تطہیر کے خدشے کو جنم دے رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہم دو ریاستی حل کو اپنی آنکھوں کے سامنے ختم ہونے کی اجازت نہیں دے سکتے ۔