غزہ کے زیر حراست طبی ماہرین سے بدسلوکی کی مذمت

   

تل ابیب : فزیشنز فار ہیومن رائٹس کی اسرائیلی شاخ (پی ایچ آر آئی) نے اسرائیل کے زیرِ حراست غزہ کے صحت کے کارکنان کے ساتھ بدسلوکی کی ایک وسیع پالیسی کی مذمت کی ہے اور ایسے ’’تشدد کے مترادف‘‘ قرار دیا ہے۔ایک رپورٹ میں پی ایچ آر آئی نے کہا کہ اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی میں جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک 250 سے زائد طبی عملے اور ان کے معاونین کو حراست میں لیا۔ رپورٹ کے مطابق 180 سے زائد افراد اس وضاحت کے بغیر زیرِ حراست ہیں کہ انہیں رہا کیا جائے گا یا نہیں اور کب؟ ادآرے نے گہرائی سے پیوست پالیسی کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ گرفتار افراد جسمانی، نفسیاتی اور جنسی استحصال کے ساتھ ساتھ فاقے اور طبی غفلت برداشت کرتے ہیں جو تشدد کے مترادف ہے۔چہارشنبہ کو شائع ہونے والی رپورٹ کے نتائج کے حوالے سے سوال پر اسرائیلی جیل سروس نے جمعہ تک کوئی جواب نہیں دیا۔فوج کے ترجمان نے اے ایف پی کو بتایا، اسرائیلی فوج ایسے الزامات کو بہت سنجیدگی سے لیتی ہے۔ یہ ٹھوس الزامات کی بخوبی جانچ پڑتال اور تحقیقات کرتی ہے اور اسی کے مطابق ان کا ازالہ کرتی ہے۔