واشنگٹن : امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے غزہ کے 20 لاکھ سے زائد رہائشیوں کی ہمسایہ ممالک میں منتقلی کے معاملے پر نرم لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ صرف ایک تجویز ہے۔‘امریکی صدر نے رواں ماہ کے آغاز میں ایک منصوبہ پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ غزہ کا کنٹرول سنبھالے گا اور اس کی تعمیر نو کرے گا، جبکہ مصر اور اردن پر دباؤ ڈالا تھا کہ وہ فلسطینیوں کو پناہ دیں۔فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق جمعہ کو ایک انٹرویو میں ڈونالڈ ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ اردن اور مصر کی قیادت نے فلسطینیوں کی مرضی کے بغیر ان کی منتقلی کو ناانصافی کہتے ہوئے اس منصوبے کو مسترد کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے تعجب تھا کہ وہ ایسا کہیں گے لیکن انہوں نے ایسا کہا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ان ممالک کو ’سالانہ اربوں ڈالر‘ کی امداد دیتا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ ’ایسا کرنا میرا منصوبہ تھا، میرے خیال میں یہ کارگر تھا، لیکن میں اسے مسلط نہیں کر رہا۔ میں صرف اس کی تجویز دوں گا۔‘ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عرب رہنماؤں نے جمعہ کو ریاض میں ملاقات کی تاکہ امریکی صدر کے منصوبہ کے مقابلہ میں جنگ کے بعد غزہ کی تعمیر نو کی تجویز تیار کی جاسکے۔واضح رہے کہ اس ملاقات کی دعوت سعودی ولی شہزادہ محمد بن سلمان نے دی تھی جس میں امیر کویت شیخ مشعل الاحمد الصباح، امیر قطر شیخ تمیم بن حمد، امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید، بحرین کے ولی عہد شیخ سلمان بن حمد آل خلیفہ، مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی اور اردن کے شاہ عبداللہ بن الحسین شامل تھے۔