غیر سماجی عناصر میں خوف پیدا کیا جائے

   

قہر ڈھائے گی اسیروں کی تڑپ
اور بھی الجھیں گے حلقے دام کے
ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ نے دہلی پولیس سے کہا ہے کہ وہ اپنے اقدامات کے ذریعہ غیر سماجی عناصر میں خوف پیدا کرے ۔ یہ تاثر دے کہ اگر وہ مزید کوئی گناہ کرتے ہیں یا خواتین کا جنسی استحصال کیا جاتا ہے یا ان کے ساتھ دست درازی کی جاتی ہے تو پھر ان ملزمین کی خیر نہیں ۔ سپریم کورٹ نے دہلی یاور اس کے اطراف میں پیش آنے والے عصمت ریزی اور دست درازی کے واقعات سے متعلق مسائل کی سماعت کرتے ہوئے یہ ریمارکس کئے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ حالیہ عرصہ میں مجرمین اور غیر سماجی عناصر میں قانون اور پولیس کا خوف تقریبا ختم ہوگیا ہے ۔ یہ عناصر بے خوف ہو کر جرائم کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ پولیس فورس کی نا اہلی یا غیر موثر تحقیقات کے نتیجہ میں انہیں عدالتوں سے ضمانتیں حاصل ہو رہی ہیں اور وہ جیل سے رہائی کے بعد پوری آزادی اور طمطراق کے ساتھ گھوم رہے ہیں۔ یہ صورتحال دہلی اوراطراف کے علاقوں میں لڑکیوںاور خواتین کیلئے مسائل پیدا کرنے کا سبب بن رہی ہے ۔ ان میں خوف پایا جانے لگا ہے ۔ حالیہ عرصہ میں جو واقعات پیش آئے ہیں وہ خواتین میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کرنے کیلئے کافی ہیں۔ ایک چلتی ہوئی بس میں ایک لڑکی کی عصمت ریزی ہوئی ۔ یہ واقعہ بھی نربھئے واقعہ کی طرح ہی تھا لیکن اس پر کوئی شور شرابہ نہیں ہوا اور نہ ہی میڈیا نے اس پر توجہ دینا ضروری سمجھا ۔ اسی طرح کالج کی ایک طالبہ کے ساتھ دست درازی کی گئی اور اس کی عصمت کو تار تار کیا گیا تھا ۔ اسی طرح خواتین پر حملوں اور ان کے قتل کے واقعات نے بھی عام شہری کے ذہن میں کئی سوال پیدا کردئے ہیں ۔ اس طرح کے سارے واقعات سے یہ بات واضح ہونے لگی ہے کہ ملزمین اور جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کے ذہنوں میںپولیس اور قانون کا کوئی خوف باقی نہیں رہ گیا ہے اور وہ جان چکے ہیں کہ چند دن کی حراست کے بعد انہیں دوبارہ رہائی مل جائے گیا اور وہ اپنے کرتوت جاری رکھ پائیں گے ۔ اس طرح کے واقعات سارے ملک کیلئے اور ساری قوم کیلئے شرم کا باعث کہے جاسکتے ہیں۔
غیر سماجی عناصر کے عزائم اس حد تک بلند ہوگئے ہیں کہ وہ کسی پوڈ کاسٹ میں بیٹھ کر کیمرے کے سامنے اپنے جرائم پر فخر کا اظہار کر رہے ہیں یہ دعوی کر رہے ہیں کہ اقدام قتل کے دفعات لگنے جیسے جرائم انجام دینے کے باوجود انہیں گرفتار نہیں کیا گیا اور نہ ہی انہیں جیل بھیجا گیا ہے ۔ یہ صورتحال سماج میں بے چینی پیدا کرنے کا سبب بن رہی ہے ۔ اس ملک میں خواتین کی عزت و عصمت کی انتہائی اہمیت ہے ۔ سماج کے تمام طبقات خواتین کی عزت و احترام کی دہائی دیتے ہیں اور اس کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔ اس کے باوجود اس طرح کے واقعات کا مسلسل پیش آنا سماج کیلئے رسوائی اور شرمندگی کا باعث کہا جاسکتا ہے ۔ اس طرح کے واقعات کی روک تھام پولیس اور نفاذ قانون کی دوسری ایجنسیوں کی اولین ترجیح ہونی چاہئے ۔ تاحال اس طرح کے واقعات کی روک تھام اور ملزمین میں ڈر و خوف پیدا کرنے جیسے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے ہیں۔ تحقیقات میں یا تو لاپرواہی کا مظاہرہ کیا گیا ہے یا پھر بدعنوانیوں کے ذریعہ ملزمین کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے ۔ یا تو سیاسی مداخلت اس کی وجہ ہوسکتی ہے یا پھر پیسے کا چلن اس کی وجہ ہوسکتا ہے ۔ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کیلئے پولیس کو اپنے کام کاج اور طریقہ کار میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے ۔ جب تک پولیس پیشہ ورانہ دیانت اور غیر جانبداری کے ساتھ مہارت کو استعمال نہیںکرے گی اس وقت تک یہ صورتحال بہتر ہونے کی امید کرنا فضول ہوگا ۔
اب جبکہ سپریم کورٹ نے بھی پولیس سے یہ کہا ہے کہ اسے جرائم پیشہ افراد میں خوف پیدا کرنے کی ضرورت ہے تو دہلی پولیس کو اس تبصرہ کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے ۔ جرائم کی روک تھام اور خاص طور پر خواتین کے خلاف جرائم کی روک تھام کے اقدامات موثر ڈھنگ سے انجام دئے جانے چاہئیں۔ مجرمین کی حوصلہ شکنی ہونی چاہئے ۔ خواتین کی حفاظت کو یقینی بنایا جانا چاہئے اور ان میںعدم تحفظ کا جو احساس پیدا ہورہا ہے اسے ختم کرنے اور سلامتی و تحفظ کے احساس کو مستحکم کرنے کی ضرورت ہے ۔