نام نہاد ’’لَو جہاد‘‘ کے الزام میں مسلم نوجوان کو عمر قید کی سزا
بریلی: ایڈیشنل سیشن جج روی کمار دیواکر نے کہا کہ لَو جہاد کے تحت مسلم مرد پوری منصوبہ بندی کے ساتھ ہندو عورتوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ وہ ان کے سامنے محبت کا ڈرامہ کرتے ہوئے شادی کرتے ہیں اور پھر ان کا اسلام میں مذہب تبدیل کرایا جاتا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے جب کسی عدالت نے اس طرح لَو جہاد پر تبصرے کیے ہیں۔ اترپردیش کے ضلع بریلی کی ایک عدالت نے نام نہاد ’’لَو جہاد‘‘ کے الزام میں ایک مسلم نوجوان کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ ساتھ ہی عدالت نے کئی نازیبا اور سخت تبصرے کرتے ہوئے کہا کہ یہ سچ ہے کہ لَو جہاد کو انجام دیا جا رہا ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج روی کمار دیواکر نے کہا کہ لَو جہاد کے تحت مسلم مرد پوری منصوبہ بندی کے ساتھ ہندو خواتین کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ وہ ان کے سامنے محبت کا ڈرامہ کرتے ہوئے شادی کرتے ہیں اور پھر ان کا اسلام میں مذہب تبدیل کرایا جاتا ہے۔ یہ شاید پہلا موقع ہے جب کسی عدالت نے اس طرح لَو جہاد پر تبصرے کیے ہیں۔ جج روی کمار دیواکر نے کیا کہا کہ اس کیس میں ملزم محمد عالم نے متاثرہ کو اپنا نام آنند بتایا۔ پھر اس سے محبت کا اظہار کیا اور ہندو رسم و رواج کے مطابق شادی بھی کی۔ اس کے بعد اس کا ریپ کیا گیا۔ اس دوران اس کی تصاویر اور ویڈیوز بھی بنائی گئیں۔ پھر انہیں بلیک میل کرکے کئی بار ریپ کیا گیا۔ جج روی کمار دیواکر نے کہا کہ لَو جہاد کا اصل مقصد ہندوستان میں اپنی حکومت قائم کرنا ہے۔ یہ مکمل طور پر بین الاقوامی سازش ہے۔ چند باغی عناصر ہی ایسی وارداتیں انجام دیتے ہیں، لیکن اس کے سبب پورا مذہب بدنام ہوتا ہے۔ لَو جہاد کیلئے بہت پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے، اس لیے غیرملکی فنڈنگ سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔