معاہدہ سے قبل رقم ادا کرنے کا الزام، کے ٹی آر کے وکیل نے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا
حیدرآباد۔/31 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے فارمولہ ای ریسنگ معاملہ میں بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی راما راؤ کو بڑی راحت دیتے ہوئے عدالت کے فیصلہ تک گرفتار نہ کرنے پولیس کو ہدایت دی ہے۔ کے ٹی راما راؤ نے اینٹی کرپشن بیورو کی جانب سے دائر کردہ مقدمہ کو کالعدم قرار دینے کیلئے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی۔ تلنگانہ ہائی کورٹ میں آج سماعت کے دوران دن بھر فریقین کی جانب سے بحث جاری رہی۔ عدالت نے فریقین کی سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کردیا اور پولیس کو ہدایت دی کہ فیصلہ تک کے ٹی آر کو گرفتار نہ کیا جائے۔ واضح رہے کہ گذشتہ دنوں مقدمہ کو کالعدم قرار دینے کی درخواست کی سماعت کے دوران ہائی کورٹ نے 27 ڈسمبر تک گرفتاری سے راحت دی تھی۔ حکومت کو جوابی حلفنامہ داخل کرنے کیلئے دس دن کی مہلت دی گئی اور 27 ڈسمبر کو سماعت ہوئی اور آئندہ سماعت 31 ڈسمبر مقرر کی گئی تھی جس کے مطابق آج فریقین نے اپنے دلائل پیش کئے۔ اینٹی کرپشن بیورو کی جانب سے ایڈوکیٹ جنرل سدرشن ریڈی نے بحث کی۔ انہوں نے کہا کہ فارمولہ ای ریسنگ کے معاملہ میں معاہدہ سے قبل ہی رقم ادا کردی گئی۔ برطانیہ کے پاونڈس کی شکل میں 46 کروڑ روپئے خانگی کمپنی کو ادا کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ کار ریسنگ سیزن 10 کے معاہدہ سے قبل ہی قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے رقم ادا کی گئی۔ ہائی کورٹ نے ایڈوکیٹ جنرل سے سوال کیا کہ اس معاملہ کی تحقیقات کس مرحلہ میں ہے۔ ایڈوکیٹ جنرل نے بتایا کہ تحقیقات ابتدائی مرحلہ میں ہے اور شواہد اکٹھا کئے جارہے ہیں جس کی بنیاد پر جلد ہی تحقیقات میں پیشرفت ہوگی۔ عدالت کو بتایا گیا کہ درخواست گذار آئی اے ایس عہدیدار دانا کشور کا بیان ریکارڈ کیا گیا ہے۔ عدالت نے پوچھا کہ ملزمین میں شامل اروند کمار اور بی ایل این ریڈی کی جانب سے آیا کوئی پٹیشن دائر کی گئی ہے جس پر ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ دونوں ملزمین نے ابھی تک کوئی پٹیشن دائر نہیں کی ہے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ اینٹی کرپشن بیورو نے اس معاملہ میں ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی ہے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ گورنر کی اجازت ملنے کے بعد ہی اینٹی کرپشن بیورو نے ایف آئی آر درج کیا ہے۔ آئی اے ایس عہدیدار دانا کشور کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ سی پی مہیندر ریڈی نے بحث کی اور کہا کہ سابق میں وزیر بلدی نظم و نسق کے طور پر کے ٹی راما راؤ نے خدمات انجام دی ہیں اور اروند کمار بلدی نظم و نسق کے پرنسپل سکریٹری رہ چکے ہیں۔ عدالت کو بتایا گیا کہ کے ٹی راما راؤ کی ہدایت پر ہی خانگی کمپنی کو بھاری رقم ادا کی گئی اور ادائیگی کے سلسلہ میں قواعد کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ کے ٹی آر کی جانب سے سینئر قانون داں سدھارتھ داوے نے دلائل پیش کرتے ہوئے کہا کہ فارمولہ ای ریسنگ کے معاملہ میں کوئی بے قاعدگیاں نہیں ہیں۔ انہوں نے اینٹی کرپشن بیورو کے مقدمہ کو بے بنیاد قراردیا۔ کے ٹی آر کے وکیل نے ایف آئی آر کو کالعدم قرار دینے کی عدالت سے درخواست کی اور کہا کہ ان کے موکل کو سیاسی طور پر نقصان پہنچانے کیلئے یہ کارروائی کی گئی ہے۔ سدھارتھ داوے نے بتایا کہ فارمولہ ای ریسنگ کے معاہدہ پر سکریٹری بلدی نظم و نسق کے دستخط ہیں اور ایف آئی آر میں کے ٹی آر کے نام کی شمولیت درست نہیں ہے۔ اس معاملہ میں کے ٹی آر کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا اور اینٹی کرپشن بیورو نے بدعنوانیوں کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا ہے۔ اینٹی کرپشن بیورو اور کے ٹی آر کے وکلاء کی بحث مکمل ہونے کے بعد فاضل جج نے فیصلہ محفوظ کردیا اور کے ٹی آر کی عدم گرفتاری سے متعلق عبوری احکامات میں توسیع کرتے ہوئے فیصلہ تک گرفتار نہ کرنے کی ہدایت دی۔1