حیدرآباد ۔ 19 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز ) : فاسٹ فوڈ جوائنٹس کے خلاف شکایتوں میں ہورہے اضافہ کے ساتھ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن ( جی ایچ ایم سی ) نے اس طرح کے سنٹرس کے خلاف سخت کارروائی کرنے خصوصی مہم چلانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ شہر میں جگہ جگہ برسوں سے کئی فاسٹ فوڈ سنٹرس چلائے جارہے ہیں ۔ تاہم امیر پیٹ ، دلسکھ نگر ، سکندرآباد ، کوکٹ پلی اور ہائی ٹیک سٹی جیسے علاقوں میں موجود بعض فاسٹ فوڈ سنٹرس میں ، جہاں بڑی تعداد میں طلبہ آتے ہیں ، مبینہ طور پر فرائیڈ رائس ، نوڈلس ، منچورئین اور رولز جیسے فوڈ ایٹمس میں انہیں مزیدار بنانے کے لیے فوڈ کلرنگ اور دیگر اشیاء کو ملایا جارہا ہے ۔ اس سے مبینہ طور پر ڈش کا مزہ اچھا ہوتا ہے اور مزیدار ہوتی ہیں ، ایسا اس لیے کیا جاتا ہے تاکہ زیادہ کسٹمرس کو راغب کیا جائے لیکن اس سے صارفین میں ہاضمہ کے مسائل ، ایسیڈیٹی کے علاوہ بلڈ پریشر کے مسائل پیدا ہوتے ہیں ۔ اس طرح کے مسائل کے بارے میں کئی شکایتیں موصول ہونے کے بعد جی ایچ ایم سی نے خصوصی ٹیمس تشکیل دئیے ہیں تاکہ غذائی اشیاء کے معیار کچن میں حفظان صحت کی حالت اور ڈش کو مزہ دار بنانے کے لیے ملائی جانے والی اشیاء کی جانچ کی جائے ۔ اس کے جو نمونے حاصل کئے گئے ہیں انہیں مزید جانچ کے لیے لیبارٹریز کو روانہ کیا جائے گا ۔ عہدیداروں نے یہ بات کہی ۔ فوڈ انسپکٹر سدرشن نے کہا کہ چونکہ کئی فاسٹ فوڈ سنٹرس شام کے اوقات میں چلائے جارہے ہیں اس لیے فوڈ انسپکٹرس اس طرح کے سنٹرس کے خلاف کارروائی نہیں کرپائے ہیں ۔ اب ان کے خلاف خصوصی مہم چلائی جائے گی جس میں فوڈ انسپکٹرس کی ایک ٹیم فاسٹ فوڈ سنٹرس کا اچانک معائنہ کرتے ہوئے اس بات کی جانچ کرے گی کہ آیا جو غذا سربراہ کی جارہی ہے وہ غیر محفوظ ، غیر معیاری اور غلط برانڈ کی تو نہیں ہیں اور اگر ایسا ہو تو فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈ ایکٹ 2006 کی خلاف ورزی پر ان فوڈ سنٹرس کے مالکین کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے علاوہ جرمانہ عائد کیا جائے گا ۔ فوڈ سیفٹی آفیسرس کے مطابق 22 فوڈ انسپکٹرس کی ٹیم روزانہ ریسٹورنٹس ، فوڈ اسٹالس ، سوپر مارکٹس اور اس طرح کے دیگر مراکز پہنچ کر معائنہ کرے گی ۔ وہ غذا کے معیار ، پانی ، صفائی کی حالت ، کچن ، ڈرینج ، لائیسنس ، میڈیکل فٹ نیس سرٹیفیکٹ وغیرہ کی جانچ کریں گے ۔ غذا کے نمونوں کی غیر محفوظ ، ناقص اور غلط برانڈ کے طور پر زمرہ بندی کی جائے گی ۔ اگر غذا کا نمونہ غیر محفوظ ہو تو فوجداری مقدمہ درج کیا جائے گا اور فوڈ سنٹر مالکین کو جیل بھیج دیا جائے گا ۔ ناقص اور غلط برانڈ کی صورت میں 5 لاکھ روپئے تک جرمانہ عائد کیا جائے گا ۔۔