سلکم چیروو پر قبضہ اور اسکول تعمیر کرنے کے الزام پر سالار ملت ایجوکیشنل ٹرسٹ عدالت سے رجوع
حیدرآباد۔7۔جولائی (سیاست نیوز) سالار ملت ایجوکیشنل ٹرسٹ نے تلنگانہ ہائی کورٹ سے رجوع ہوتے ہوئے فاطمہ اویسی اسکول کی عمارت کے انہدام یا جائیداد کو مہر بند کئے جانے کے خلاف عبوری حکم التواء حاصل کرلیا۔ تلنگانہ ہائی کورٹ میں جسٹس این وی شرون کمار کی بنچ پر جاری ’’سلکم چیروو‘‘ پر قبضہ کرتے ہوئے تعمیر کی گئی عمارت کے مقدمہ میں امکانی احکامات کے بعد مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد اور ’حیڈرا‘ کی جانب سے کی جانے والی امکانی کاروائیوں کو بنیاد بناتے ہوئے ٹرسٹ کے ذمہ داروں نے تلنگانہ ہائی کورٹ میں جسٹس وجئے سین ریڈی کی بنچ پر مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے خلاف درخواست داخل کرتے ہوئے فاطمہ اویسی کے جی تا پی جی کیمپس کے خلاف کسی بھی طرح کی کاروائی کے خلاف عبوری حکم التواء حکم التواء حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔سالار ملت ایجوکیشنل ٹرسٹ کی جانب سے پرنسپل سیکریٹری محکمہ بلدی نظم و نسق‘ کمشنر مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد ‘ زونل کمشنر جی ایچ ایم سی راجندر نگر ‘ کے علاوہ ڈپٹی کمشنر جی ایچ ایم سی چندرائن گٹہ سرکل کو فریق بناتے ہوئے تلنگانہ ہائی کورٹ میں داخل کی گئی درخواست کی سماعت کے بعد جسٹس وجئے سین ریڈی نے فاطمہ اویسی کے جی تا پی جی کیمپس کے خلاف کسی بھی طرح کی کوئی کاروائی پر عبوری حکم التواء جاری کرتے ہوئے 3 اگسٹ کو آئندہ سماعت مقرر کی ہے۔درخواست گذار نے عدالت میں پیش کی گئی درخواست میں کہا کہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے ان کی جائیداد کو منہدم کرنے یا اسے مہر بند کرنے کی منصوبہ بندی کی جار ہی ہے ۔ درخواست میں بتایا گیا ہے کہ 2360 مربع گز پر موجود اس کے جی تا پی جی کیمپس پر کی گئی تعمیرات کو باقاعدہ بنانے کے لئے سالار ملت ایجوکیشنل ٹرسٹ نے سال 2016میں تعمیر کی گئی تھی جو کہ جی ایچ ایم سی میں اب تک زیر التواء ہے۔ ایڈوکیٹ کے رویندر ریڈی نے تلنگانہ ہائی کورٹ میں سالار ملت ایجوکیشنل ٹرسٹ کی جانب سے درخواست داخل کرتے ہوئے یہ عبوری احکام حاصل کئے ہیں جبکہ تلنگانہ ہائی کورٹ میں ہی ایک اور بنچ پر جسٹس این وی شرون کمار کے پاس مذکورہ جائیداد کی ملکیت اور تالاب پر قبضہ کے ذریعہ کی گئی تعمیرات کے سلسلہ میں مقدمہ زیر دوراں ہے اور اس مقدمہ کی آئندہ سماعت 9 جولائی کو مقرر کی گئی ہے ۔3