اراضیات کی فروخت سے 6 ماہ میں 7432 کروڑ کی آمدنی، مزید ایک سال تک حکومت کیلئے چیلنج کی صورتحال
حیدرآباد۔/20ستمبر، ( سیاست نیوز) مرکزی حکومت سے ٹکراؤ کے سبب تلنگانہ کی آمدنی بری طرح متاثر ہوئی ہے ایسے میں کے سی آر حکومت کو آمدنی کے دیگر ذرائع اور وسائل تلاش کرنے پڑ رہے ہیں۔ مرکز کی جانب سے فنڈز کی اجرائی میں تاخیر اور ریاستی حکومت کو قرض کے حصول کی اجازت نہ دینے کا ریاست کی معاشی صورتحال پر برا اثر پڑا ہے۔ فلاحی اسکیمات کو جاری رکھنے کیلئے حکومت نے ٹیکس کے علاوہ آمدنی پر توجہ مرکوز کی ہے اور اراضیات کی فروخت سے حکومت کو سب سے زیادہ آمدنی حاصل ہوئی ہے۔ ریاست کے قیام سے بعد سے پہلی مرتبہ اراضی کی فروخت سے جاریہ سال جولائی تک حکومت کو 7432 کروڑ کی آمدنی ہوئی ہے جو کسی بھی سال اس مدت کی سب سے زیادہ آمدنی میں شمار کی جارہی ہے۔ جاریہ مالیاتی سال حکومت نے 25421 کروڑ کی ٹیکس کے علاوہ آمدنی کا نشانہ مقرر کیا ہے اور ابھی تک 30 فیصد کا نشانہ مکمل ہوچکا ہے۔ جاریہ سال حکومت کو امید ہے کہ نان ٹیکس اِنکم میں اضافہ ہوگا۔ 2021-22 میں 1925 کروڑ، 2020-21 میں 1069 کروڑ، 2019-20 میں 1744 کروڑ کی آمدنی ہوئی تھی۔ 2014-15 میں 689 کروڑ نان ٹیکس آمدنی ریکارڈ کی گئی تھی اور اس آمدنی میں ہر سال بتدریج اضافہ ہوا ہے۔ حکومت نے فلاحی اور ترقیاتی اسکیمات جاری رکھنے کیلئے نئے ذرائع آمدنی تلاش کئے جس کے تحت فاضل سرکاری اراضیات کو فروخت کیا جارہا ہے۔ ہراج کے ذریعہ فروخت کی صورت میں شہر اور مضافاتی علاقوں میں حکومت کو بھاری آمدنی کی امید ہے۔ کورونا وباء کے بعد سے ریاست کی آمدنی پر برا اثر پڑا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو نان ٹیکس آمدنی پر توجہ مرکوز کرنی چاہیئے جس کے نتیجہ میں فلاحی اسکیمات کو برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔ اراضیات کی فروخت کے ذریعہ آمدنی کے حصول میں تلنگانہ دیگر ریاستوں کے مقابلہ سرِفہرست ہے۔2021-22 میں نان ٹیکس آمدنی 30557 کروڑ حاصل ہوئی تھی۔ اب جبکہ اسمبلی انتخابات کیلئے صرف ایک سال باقی ہے اور بی جے پی نے تلنگانہ میں موقف مستحکم کرنے پر توجہ مرکوز کی ہے ان حالات میں مرکزی حکومت کی جانب سے تلنگانہ کو فوری راحت کے امکانات موہوم دکھائی دے رہے ہیں۔ ایسے میں مزید ایک سال تک فلاحی اسکیمات کی کامیابی سے برقراری حکومت کیلئے چیلنج رہے گا۔ر