واشنگٹن: امریکی وائٹ ہاؤس نے جاری ایک بیان میں باور کرایا ہے کہ وہ اسرائیلی یرغمالیوں کے ساتھ حماس کے “وحشیانہ برتاؤ” کی روشنی میں، اسرائیل کی جانب سے 600 فلسطینیوں کی رہائی ملتوی کرنے کے فیصلے کی تائید کرتا ہے۔امریکی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان برائن ہیوز نے ایک بیان میں کہا کہ یرغمالیوں کے ساتھ فلسطینی مسلح تنظیم کے برتاؤ پر اسرائیل کا قیدیوں کی رہائی ملتوی کرنا ایک مناسب جواب ہے۔اسی طرح امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ حماس کے متعلق کیے گئے کسی بھی فیصلے میں اسرائیل کی حمایت کے لیے تیار ہیں۔ادھر حماس تنظیم نے یہ کہا ہے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو جھوٹے بہانوں کا سہارا لے رہے ہیں تا کہ 19 جنوری کو نافذ العمل فائر بندی معاہدے کی راہ میں رکاوٹ ڈال سکیں۔ حماس نے معاہدے کے وساطت کاروں (مصر، قطر اور امریکہ) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالیں۔ حماس نے باور کرایا کہ وہ قاہرہ، دوحہ اور واشنگٹن کی سرپرستی میں طے پانے والے معاہدے کی تمام شقوں پر عمل درآمد کی پاسداری کر رہی ہے۔اس سے قبل نیتن یاہو نے اعلان کیا تھا کہ حماس کی جانب سے بار بار دہرائی جانے والی ذلت آمیز خلاف ورزیوں کے سبب فلسطینیوں کی رہائی کو ملتوی کر دیا گیا ہے۔ نیتن یاہو کا اشارہ حوالگی کے موقع پر اسرائیلی یرغمالیوں کے اطراف القسام بریگیڈز (حماس کا عسکری ونگ) کے درجنوں ارکان کی موجودگی، یرغمالیوں کے ہاتھوں میں قید کی سند اور انھیں اسٹیج پر چڑھانا جیسے امور کی جانب تھا۔ یہ امور قیدیوں کو صلیب احمر کے حوالے کیے جانے کے موقع پر دیکھنے میں آتے ہیں۔معلوم رہے کہ اس سے قبل اسرائیل بھی فلسطینی قیدیوں کی رہائی سے قبل ان کے ساتھ اسی نوعیت کے اقدامات کر چکا ہے۔ اسرائیلی حکام نے سابقہ حوالگی کے موقع پر فلسطینیوں کو قمیضیں پہنائی تھیں جن پر لکھا تھا ہم بھولیں گے نہیں، ساتھ حماس پر حملے کی دھمکی بھی دی گئی تھی۔اسی طرح اسرائیلی جیلوں سے رہائی پانے والے زیادہ تر فلسطینی لاغر جسم رکھتے ہیں اور وہ گرفتاری کے عرصے میں خود پر ہونے والے تشدد کا انکشاف کرتے ہیں۔
یاد رہے کہ فائر بندی معاہدے کے پہلے مرحلے کے تحت اب تک حماس تنظیم 29 اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کر چکی ہے۔ معاہدہ تین مرحلوں پر مشتمل ہے۔ابھی غزہ کی پٹی میں 62 اسرائیلی یرغمالی باقی ہیں۔ اسرائیلی فوج کے مطابق ان میں 35 مر چکے ہیں۔