فلسطینی معیشت تباہ، نقد رقم کی فراوانی دردِ سر

   

غزہ پٹی۔ 20 جولائی (ایجنسیز) اسرائیل کے زیرِ قبضہ مغربی کنارے میں فلسطینی بینکاری نظام ایک غیرمعمولی مالی بحران سے دوچار ہے، جہاں بینکوں میں اسرائیلی شیکل (کرنسی ) کی اتنی زیادہ مقدار جمع ہو چکی ہے کہ وہ مزید نقد رقم قبول کرنے سے قاصر ہیں۔ اس صورتحال کے باعث شہریوں، تاجروں اور کاروباری اداروں کو روزمرہ لین دین میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ فلسطینی حکام نے کہا ہے کہ اسرائیل جان بوجھ کر مغربی کنارے سے واپس لیے جانے والے شیکل کی مقدار محدود رکھے ہوئے ہے، جس سے نقد رقم بینکوں میں پھنس کر رہ گئی ہے اور معیشت مفلوج ہوتی جا رہی ہے۔فلسطینی مانیٹری اتھارٹی کے نائب گورنر محمد منصورہ نے اس صورتحال کو اقتصادی جنگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی پالیسیوں نے فلسطینی بینکوں کو عملی طور پر مفلوج کردیا ہے۔ ان کے مطابق مغربی کنارے میں ہر سال تقریباً 30 ارب شیکل جمع ہوتے ہیں، جبکہ اسرائیل صرف 18 ارب شیکل واپس لینے کی اجازت دیتا ہے، جس کے نتیجے میں بینکوں کے خزانے نوٹوں سے بھر چکے ہیں اور کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ عام طور پر دنیا کے مرکزی بینک تجارتی بینکوں سے نقد رقم وصول کرکے اس کے بدلے الیکٹرانک بیلنس جاری کرتے ہیں، جس سے ادائیگیاں، سرمایہ کاری اور مالیاتی نظام رواں رہتا ہے۔ تاہم مغربی کنارے میں فلسطینی بینک ایسا نہیں کر سکتے کیونکہ وہاں کرنسی پر اختیار اسرائیل کے پاس ہے اور فلسطینی ادارے شیکل سے متعلق آزادانہ مالیاتی فیصلے نہیں کر سکتے۔مغربی کنارہ کئی دہائیوں سے اسرائیلی شیکل پر انحصارکرتا ہے۔ اسرائیل میں کام کرنے والے ہزاروں فلسطینی مزدور اپنی اجرت نقد شیکل میں حاصل کرتے ہیں، جبکہ اسرائیل کے فلسطینی شہری بھی مغربی کنارے سے ایندھن، سگریٹ اور دیگر اشیا خریدتے ہیں، جس کے باعث مزید شیکل اس علاقے میں آتے رہتے ہیں۔ لیکن چونکہ اسرائیل اضافی نقد رقم واپس لینے سے گریزکرتا ہے، اس لیے یہ سرمایہ بینکوں میں پڑا رہتا ہے، نہ اس پر منافع حاصل ہوتا ہے اور نہ ہی اسے قرضوں، سرمایہ کاری یا کاروباری سرگرمیوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اسرائیلی حکام ماضی میں یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ اضافی نقد رقم منی لانڈرنگ، ٹیکس چوری یا دہشت گردی کی مالی معاونت سے منسلک ہو سکتی ہے، اس لیے وہ اس کی واپسی محدود رکھتے ہیں۔