BNS اور آئی ٹی ایکٹ کے تحت 2 سے 5 سال قید کی سزا ، تلنگانہ سائبر سیکوریٹی کا انتباہ
حیدرآباد ۔ 18۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : غصے یا جذبات میں آکر کی گئی ایک فون کال ، غیر اخلاقی وائس میسیج یا دھمکی آمیز پیغامات اب پوری زندگی اور کیرئیر کو تباہ کرسکتے ہے ۔ تلنگانہ سائبر سیکوریٹی بیورو اور انتخابی و قانونی حکام نے عوام بالخصوص نوجوانوں کو متنبہ کیا کہ فون پر گالی گلوج ، خواتین سے بدسلوکی یا دھمکیاں دینے پر نئے ( BNS ) قوانین اور آئی ٹی ایکٹ (ITACT) کے تحت سخت قانونی کارروائی کی جارہی ہے ۔ اب ہر کال ریکارڈنگ ، چیٹ اسکرین شاٹ اور وائس نوٹ عدالت میں ناقابل تردید ثبوت تسلیم کئے جارہے ہیں ۔ نئے بی این ایس قوانین کے تحت فون اور سوشیل میڈیا پر ہراساں کرنے پر دفعہ (2)351 کے تحت کسی کو فون یا میسیج کے ذریعے جان سے مارنے یا جسمانی نقصان پہونچانے کی دھمکی پر دو سال قید کی سزا ہوگی ۔ دفعہ 79 کے تحت خواتین کو ہراساں کرنے ‘ ناگوار الفاظ یا پیغامات بھیجنے پر 3 سال کی قید ہوسکتی ہے ۔ دفعہ 74 مجرمانہ قوت کا استعمال عورت کی عزت پامال کرنے کی نیت سے حملہ یا ذہنی و مجرمانہ دباؤ ڈالنے پر 5 سال قید ہوگی ۔ سوشیل میڈیا اور فون کے ذریعے پرائیوسی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف آئی ٹی ایکٹ کے سنگین دفعات نافذ ہونگے ۔ کسی کی اجازت کے بغیر تصویر ، آڈیو یا ویڈیو ریکارڈ کرنے اور شائع کرنے پر سیکشن 66E پرائیوسی کی خلاف ورزی کے تحت 3 سال قید اور 2 لاکھ روپئے کا جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے ۔ سیکشن 67 فحش مواد کی اشاعت پر سوشیل میڈیا ، یا واٹس ایپ پر فحش پیغامات یا آڈیو شیئر کرنے پر 3 سے 5 سال قید کی سزا ہوسکتی ہے ۔ جنسی یا غیر اخلاقی مواد الیکٹرانک طریقے سے بھیجنے پر سیکشن 67A کے تحت 5 سال قید کی سخت سزا کا شق موجود تھا ۔ تلنگانہ سائبر سیکوریٹی بیورو کی ایس پی ، بی سائی سری نے شہریوں کو ہدایت کی کہ وہ ہراسانی کی صورت میں گھبرانے کی بجائے تمام ثبوت محفوظ رکھیں ۔ ڈیجیٹل دور میں تحمل اور نظم و ضبط کے ساتھ فون کا استعمال ضروری ہے ۔ کال ریکارڈنگس ، واٹس ایپ وائس میسیجز اور چیٹ اسکرین شاٹس کو محفوظ رکھ کر پولیس میں شکایت درج کروائیں ۔ قانون متاثرین کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے اور جرم ثابت ہونے پر ملزم کو سخت سزا مل کر رہے گی ۔ متاثرین فوری سائبر کرائم ہیلپ لائن نمبر 1930 پر ربط کرسکتے ہیں یا cybercrime.gov.in پر آن لائن شکایت درج کراسکتے ہیں۔ 2/k/b