فیس ریمبرسمنٹ : اسمبلی میں وزیر سیتا اَکا اور ہریش راؤ کی نوک جھونک

   

بی آر ایس نے کانگریس کے بقایاجات کو اور کانگریس نے بی آر ایس کے بقایا جات کو ادا کیا
حیدرآباد۔ 22 مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ اسمبلی میں آج ریاستی وزیر برائے خواتین واطفال بہبودسیتا اَکا اور بی آر ایس کے رکن اسمبلی ہریش راؤ کے درمیان فیس ری ایمبرسمنٹ کے مسئلہ پر تیکھی نوک جھونک ہوگئی۔ فیس ری ایمبرسمنٹ کے مسئلہ پر آج اسمبلی میں گرماگرم مباحث ہوئے۔ ارکان کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کا ریاستی وزیر سیتا اکا نے جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت تاحال 8,029 کروڑ روپئے جاری کرچکی ہے۔ ریاست میں مزید 5,520 کروڑ روپئے کے فیس ری ایمبرسمنٹ بقایا جات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سابق بی آر ایس حکومت نے 4,341 کروڑ روپئے بقایاجات جاری نہیں کئے تھے، جس سے طلبہ بہت زیادہ پریشان تھے۔ کانگریس حکومت، سابق بی آر ایس حکومت کے بقایاجات کو مرحلہ واری اساس پر جاری کررہی ہے۔ حکومت کی جانب سے کالیجس کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ طلبہ کے سرٹیفکیٹس کو نہ روکیں اور فوری جاری کردیں۔ ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارک نے پروفیشنل کالیجس کے انتظامیہ کو یقین دلایا ہے کہ فیس باز ادائیگی کے بقایا جات کو جاری کئے جائیں گے۔ انہوں نے کالج انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ وہ بچوں کے سرٹیفکیٹس کو نہ روکیں۔ سیتا اکا نے کہا کہ کسانوں کے قرضوں کی معافی کی وجہ سے دوسرے محکمہ جات پر یقیناً بوجھ عائد ہوا ہے، لیکن اب ان شعبوں پر بھی توجہ دی جائے گی جن کے بقایاجات جاری کرنا ہے۔ بی آر ایس کے رکن اسمبلی ہریش راؤ نے سیتا اکا کے حوالے پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فیس ری ایمبرسمنٹ کی اجرائی مسلسل جاری رہنے والا عمل ہے۔ علیحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے بعد ہم نے بھی کانگریس حکومت کی جانب سے بقایاجات رکھے گئے 2,000 کروڑ روپئے ادا کئے تھے۔ بی آر ایس کے بقایاجات کو کانگریس نے جاری کیا ہے، اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں۔ بی آر ایس حکومت کو نوٹ بندی، کورونا بحران کی وجہ سے معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس کی وجہ سے وہ بروقت فیس باز ادائیگی نہیں کرپائی۔ اس کو سیاسی مسئلہ بنانے کے بجائے انسانی ہمدردی کے نظریہ سے سوچنا چاہئے۔2