وزیر لکشمن کمار کا جواب غیر واضح، اکبر اویسی نے اسکیمات میں بے قاعدگیوں کی نشاندہی کی، کل جماعت اجلاس طلب کرنے حکومت کا اتفاق
حیدرآباد۔11۔ستمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ قانون اسمبلی میں فیس ری ایمبرسمنٹ اور اوور سیز اسکالرشپ اسکیم کی ادائیگی کے مسئلہ پر مجلس اور بی جے پی نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ دونوں اسکیمات کے بقایہ جات کی فوری اجرائی کا مطالبہ کیا گیا۔ مجلس کے فلور لیڈر اکبر الدین اویسی نے فیس ری ایمبرسمنٹ اسکیم میں مبینہ بے قاعدگیوں کی شکایت کرتے ہوئے کہا کہ کئی غیر مستحق افراد بھی اسکیم سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے دونوں اسکیمات سے استفادہ کیلئے مقررہ قواعد میں ترمیم کا مطالبہ کیا۔ وزیر ایس سی ڈیولپمنٹ لکشمن کمار نے گزشتہ 10 برسوں کے دوران بی آر ایس حکومت کی جانب سے فیس ری ایمبرسمنٹ اور اوورسیز اسکالرشپ کے بقایہ جات کی تفصیلات پیش کیں ۔ انہوں نے بتایا کہ مجموعی طور پر فیس ری ایمبرسمنٹ کے بقایہ جات تقریباً 8000 کروڑ ہیں اور حکومت بقایہ جات کو جلد جاری کرے گی۔ وزیر کے جواب سے مجلسی ارکان مطمئن نہیں ہوئے اور انہوں نے اس مسئلہ پر کل جماعتی اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ دونوں اسکیمات پر عمل آوری کے سلسلہ میں تفصیلی طور پر بحث کی جاسکے اور اپوزیشن کو رائے پیش کرنے کا موقع حاصل ہو۔ کرسی صدارت پر موجود پیانل اسپیکر کڈیم سری ہری نے حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ اس مسئلہ پر کل جماعتی اجلاس طلب کریں کیونکہ یہ ریاست کا ایک اہم مسئلہ ہے۔ وزیر امور مقننہ سریدھر بابو نے کہا کہ فیس ری ایمبرسمنٹ اسکیم کے استفادہ کنندگان میں غیر مستحق افراد کی شمولیت حکومت کے لئے تشویش کا باعث ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیس ری ایمبرسمنٹ اسکیم سابق میں کانگریس حکومت کی جانب سے متعارف کی گئی تھی اور اسکیم پر بہرصورت عمل کیا جائے گا۔ انہوں نے اسکیم پر موثر عمل آوری اور نقائص دور کرنے کیلئے کل جماعتی اجلاس جلد طلب کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ فیس ری ایمبرسمنٹ اور اوورسیز اسکالرشپ کے بقایہ جات کی اجرائی میں حکومت سنجیدہ ہے اور مرحلہ طورپر اجرائی عمل میں آئے گی۔ وزیر ایس سی ڈیولپمنٹ لکشمن نے وقفہ سوالات کے دوران مجلسی ارکان کے سوال پر پانچویں تا آٹھویں جماعت اور نویں تا دسویں جماعت کے ایس سی ، ایس ٹی اور بی سی طلبہ کو 2014-15 سے 2025-26 تک جاری کردہ اسکالرشپ کی تفصیلات پیش کیں۔ انہوں نے پوسٹ میٹرک اسکالرشپ کی اجرائی کے سلسلہ میں 2014-15 سے 2025-26 تک کے اعداد و شمار پیش کئے ۔ انہوں نے بتایا کہ پوسٹ میٹرک اسکالرشپ کے تحت اس مدت میں جملہ ایک کروڑ 36 لاکھ 33 ہزار 189 درخواستیں موصول ہوئیں اور درخواستوں کی جانچ کے بعد 18570 کروڑ روپئے جاری کئے گئے ۔ اوورسیز اسکالرشپ اسکیم کے تحت جاریہ سال 42.76 کروڑ جاری کئے گئے۔ مجلس کے فلور لیڈر اکبر اویسی نے حکومت سے جاننا چاہا کہ بقایہ جات کی اجرائی کب ہوگی اور اس سلسلہ میں ریاست کی معاشی صورتحال کے مطابق فیصلہ کب کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے فیس ری ایمبرسمنٹ کی رقم کالجس کے بجائے راست طور پر ڈی بی ٹی اسکیم کے تحت طلبہ کے بینک اکاؤنٹ میں جمع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے دریافت کیا کہ کیا داخلہ کے فوری بعد حکومت فیس ادا کرے گی یا طالب علم کو فیس ادا کرنے کے بعد حکومت کی جانب سے ادا کی جائے گی۔ انہوں نے فیس ری ایمبرسمنٹ کی منظوری میں کئی باقاعدگیوں کا ذکر کیا اور طلبہ کی کم حاضری اور ان کے معاشی موقف کا جائزہ لئے بغیر ہی دولتمند خاندانوں کے طلبہ کو بھی فیس ری ایمبرسمنٹ جاری کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جاریہ سال مجموعی بقایہ جات 11,000 کروڑ ہوجائیں گے ۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کانگریس حکومت سابق بی آر ایس حکومت کے دور کے بقایہ جات کی اجرائی سے انکار کر رہی ہے۔ لہذا کانگریس کو سابق حکومت کے بقایہ جات جاری کرنے چاہئے ۔ اکبر اویسی نے کہا کہ بقایہ جات کی عدم اجرائی کے نتیجہ میں کئی کالجس بند ہوچکے ہیں اور خانگی کالجس کے دو لاکھ ٹیچرس تنخواہوں سے محروم ہیں۔ کالجس کی جانب سے طلبہ کے سرٹیفکٹس جاری نہیں کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ اوورسیز اسکالرشپ کیلئے امیدواروں پر شرط عائد کی جائے کہ وہ کورس کی تکمیل کے بعد وطن واپس ہوکر ریاست و ملک کی خدمت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ سابق حکومت کی خامیوں کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔ بی جے پی رکن پی شنکر نے کہا کہ فیس ری ایمبرسمنٹ کے مسئلہ پر بی جے پی نے ریاست گیر سطح پر احتجاج منظم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کالجس کی جانب سے سرٹیفکٹس کی اجرائی سے انکار کے نتیجہ میں طلبہ کو مشکلات کا سامنا ہے۔ 1/k/m/b