فیس ری ایمبرسمنٹ کے تحت آندھراپردیش میں 708 کروڑ کی اجرائی: جگن موہن ریڈی

   

10 لاکھ سے زائد طلبہ کو فائدہ، سرکاری اسکول میں شریک کرنے پر ماں کو 15 ہزار روپئے کی مدد
حیدرآباد۔16۔ مارچ (سیاست نیوز) آندھراپردیش کی جگن موہن ریڈی حکومت نے 10.82 لاکھ طلبہ کی فیس ری ایمبرسمنٹ کے طور پر 708 کروڑ روپئے جاری کئے ہیں۔ اکتوبر تا ڈسمبر 2021 ء سہ ماہی کے تحت فیس کی رقم طلبہ کے بینک اکاؤنٹس میں جمع کردی گئی ۔ چیف منسٹر وائی ایس جگن موہن ریڈی نے رقم جاری کرتے ہوئے کہا کہ غربت طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے حصول میں رکاوٹ نہیں بننی چاہئے ۔ حکومت نے فیس ری ایمبرسمنٹ کی رقم سہ ماہی بنیادوں پر جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ چیف منسٹر نے فیس ری ایمبرسمنٹ کے لئے ’’جگن انا ودیا دیونا‘‘ اسکیم متعارف کی ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ غربت کے خاتمہ کیلئے تعلیم واحد حل ہے۔ کسی گاؤں میں ایک بچہ اگر تعلیم حاصل کرے تو اس کا فائدہ سارے گاؤں کو ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کالجس میں درمیان سے تعلیم ترک کرنے کے رجحان کو روکنے کی کوشش کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم سے متعلق کورسس کی تکمیل کیلئے طلبہ کو فیس ری ایمبرسمنٹ سے مدد مل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسکیم کے تحت تعلیمی فیس طلبہ کی ماں کے اکاؤنٹ میں منتقل کی جاتی ہے۔ جگن موہن ریڈی نے پد یاترا کے دوران پیش آئے ایک واقعہ کا حوالہ دیا جس میں ایک باپ نے اپنی دکھ بھری داستاں سنائی تھی کہ فیس ادا نہ کرنے پر بیٹے نے خودکشی کرلی۔ جگن نے کہا کہ غریبوں کو اعلیٰ تعلیم کی راہ میں تمام حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کیلئے فیس ری ایمبرسمنٹ اسکیم کے تحت مکمل فیس ادا کی جارہی ہے۔ حکومت نے تاحال 9274 کروڑ روپئے طلبہ کو جاری کئے جس میں فیس ری ایمبرسمنٹ کے بقایہ جات کے طور پر 1778 کروڑ شامل ہیں۔ ودیا دیونا اسکیم کے تحت 6969 کروڑ اور جگن وستی دیونا اسکیم کے تحت 2305 کروڑ کی اجرائی عمل میں آئی جو طلبہ کو ہاسٹلس میں قیام کے لئے دی جاتی ہے۔ چیف منسٹر نے بتایا کہ آندھراپردیش میں اسکولوں میں بچوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ بچوں کو اسکول بھیجنے پر ماں کو 15000 روپئے کی امداد فراہم کی جارہی ہے۔ چیف منسٹر نے بتایا کہ اعلیٰ تعلیم کے نصاب میں تبدیلی کی گئی تاکہ روزگار کے مواقع پیدا کئے جائیں۔ حکومت کی اسکیمات سے ڈگری ، انجنیئرنگ ، میڈیسن کے علاوہ پالی ٹکنیک اور آئی ٹی آئی کورسس کے طلبہ کو فائدہ ہوا۔ جگن نے بتایا کہ تعلیمی شعبہ میں اصلاحات کے تحت دو زبانوں میں نصابی کتب تیار کئے گئے ۔ خانگی اسکولوں سے 6.5 لاکھ طلبہ سرکاری اسکولوں کو منتقل ہوئے ہیں۔ اسکالرشپ رقم کی اجرائی کے موقع پر ریاستی وزراء اے سریش ، پی وشوروپ اور چیف سکریٹری سمیر شرما موجود تھے۔ر