جونیر ، سینئیر کا معاملہ ختم کریں ، کانگریس پارٹی کو اقتدار میں لانے کیلئے تمام قائدین متحدہ کام کریں
حیدرآباد ۔ 4 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز ) : کانگریس کے سینئیر قائد سابق وزیر محمد علی شبیر نے کہا کہ وہ کانگریس کے ڈسپلن سپاہی ہے۔ جانا ریڈی عہدوں میں مجھ سے تھوڑے سینئیر ہے مگر پارٹی میں وہ جانا ریڈی سے سینئیر ہے ۔ 26 جنوری سے شروع ہونے والی ہاتھ سے ہاتھ جوڑو مہم کو کامیاب بنانا پارٹی کے تمام قائدین کی ذمہ داری ہے ۔ بوئن پلی کے گاندھی آئیڈیالوجی سنٹر میں منعقدہ کانگریس کے ایک روزہ تربیتی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ ریاست میں عوام بی آر ایس کی حکمرانی اور مرکز میں بی جے پی کی حکمران سے مایوس ہے ۔ کانگریس کو متبادل کی طرح دیکھ رہے ہیں ۔ عوامی مسائل کو اجاگر کرنے اور کانگریس پارٹی کو تنظیمی سطح پر مستحکم کرنے کے لیے راہول گاندھی بارش ، دھوپ ، سردی ، دھول مٹی اور حکمرانوں کی تنقیدوں کی پرواہ کئے بغیر کنیا کماری سے کشمیر تک پدیاترا کررہے ہیں جن کا عوام والہانہ خیر مقدم کررہے ہیں اور کانگریس پارٹی کیڈر میں ایک نیا جوش و خروش پیدا ہورہا ہے ۔ اس کا بھر پور فائدہ اٹھانے کے بجائے تلنگانہ کانگریس کے قائدین جونیر سینئیر کے مسئلہ پر منقسم ہوگئے ہیں ۔ جہاں تک سینئیریاٹی کا معاملہ ہے جانا ریڈی عہدوں میں ان سے کسی قدر سینئیر ہے ۔ جب کہ تنظیمی سطح پر وہ کانگریس پارٹی میں جانا ریڈی سے سینئیر ہے ۔ گیتا ریڈی وہ اور چند دوسرے قائدین ایک ساتھ پہلی مرتبہ وزارت میں شامل ہوئے ۔ قائدین کو تیار کرنے والی فیکٹری صرف کانگریس ہے ۔ وہ پارٹی کے تمام قائدین کو مشورہ دیتے ہیں جونیر ، سینئیر کی پنچایت فوری بند کی جائے اور تمام قائدین متحد ہو کر کام کریں ۔ ہماری ساری زندگی کانگریس میں گذری ہے ۔ ہائی کمان کے ہر فیصلے کا ہم نے احترام کیا ہے ۔ دور طالب علمی کے دوران انہیں راجیو گاندھی نے طلب کرتے ہوئے ٹکٹ دیا تھا ۔ وہ کئی چیف منسٹرس کے کابینہ میں بحیثیت وزیر خدمات انجام دے چکے ہیں ۔ پارٹی کے اندرونی معاملات کو میں نے کبھی منظر عام پر نہیں لایا ۔ اب تک جو کچھ ہوچکا ہے سب بھول جائیے ۔ پارٹی کے تمام قائدین متحد ہو کر کانگریس کو اقتدار میں لانے کے لیے کام کریں ۔۔ ن