قائدین کی ناراضگی دور کرنے نامزد عہدوں پر تقررات کی تیاری

   

70 سے زائدسرکاری ادارے مخلوعہ، وزراء سے مشاورت کے بعد کے ٹی آررپورٹ پیش کرینگے
حیدرآباد 22 ڈسمبر (سیاست نیوز) بی آر ایس کی سرگرمیوں کو قومی سطح پر توسیع دینے چیف منسٹر اور بی آر ایس کے سربراہ کے چندر شیکھر راؤ نے قائدین اور کارکنوں کی ناراضگی دور کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ دیگر ریاستوں میں بی آر ایس کی توسیع کی ذمہ داری دی جاسکے۔ بی آر ایس کی تشکیل کے بعد پارٹی میں اختلافات اور ناراضگی کھل کر منظر عام پر آچکی ہے اور کے سی آر نے ناراض قائدین کو منانے کی ذمہ داری ورکنگ صدر کے ٹی راما راؤ کو سونپی ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق گزشتہ 8 برسوں میں سرکاری عہدوں سے محروم قائدین کی ناراضگی دور کرنے چیف منسٹر نامزد عہدوں پر تقررات کا آغاز کرسکتے ہیں۔ گزشتہ دنوں شہر کے پانچ بی آر ایس ارکان اسمبلی نے حامیوں کو عہدوں سے محروم رکھنے پر ناراضگی جتائی تھی اور انہوں نے وزیر لیبر ملا ریڈی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ چیف منسٹر کے مختلف اضلاع کے دورہ کے موقع پر مقامی نمائندوں نے کیڈر کی ناراضگی سے واقف کرایا تھا۔ واضح رہے کہ 2014 ء میں حکومت کی تشکیل کے بعد پہلی میعاد میں کے سی آر نے بہت کم عہدوں پر تقررات کئے تھے۔ تلنگانہ جدوجہد میں اہم رول ادا کرنے والے کئی قائدین آج تک نامزد عہدوں سے محروم ہیں۔ اب جبکہ بی آر ایس کی سرگرمیوں کو دیگر ریاستوں میں وسعت دینے کا مرحلہ ہے، کے سی آر چاہتے ہیںکہ تلنگانہ قائدین کو دیگر ریاستوں میں بھیج کر رپورٹ حاصل کریں۔ تلنگانہ کے اضلاع میں عوام کو بی آر ایس کے قیام اور اس کی افادیت سے واقف کرانے باقاعدہ مہم چلائی جائیگی۔ ایسے وقت جبکہ پارٹی کیڈر عہدوں سے محرومی کے باعث ناراض ہے، چیف منسٹر نے دوسرے مرحلہ میں نامزد عہدوں پر تقررات کا فیصلہ کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ نئی دہلی کے مجوزہ دورہ سے واپسی کے بعد چیف منسٹر مخلوعہ کارپوریشنوں اور بورڈس پر تقررات کریںگے ۔ 2023 ء انتخابات میں کامیابی کیلئے کیڈرکی ناراضگی دور کرنا ضروری ہے۔ حکومت کی دوسری میعاد میں نامزد عہدوں پر بعض تقررات عمل میں لائے گئے لیکن 2001 ء سے پارٹی سے وابستہ قائدین کو نظر انداز کردیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایٹالہ راجندر کی ٹی آر ایس سے دوری کے بعد چیف منسٹر نے تقریباً 75 نامزد عہدوں پر تقررات کئے تھے۔ 70 سے زائد ادارے ہیں جن پر تقررات باقی ہیں۔ کے ٹی آر سے رپورٹ طلب کی گئی تاکہ تمام اضلاع کے کیڈر سے انصاف ہوسکے۔ وزراء اور ارکان مقننہ کے علاوہ ضلع پارٹی صدور سے سرگرم کارکنوں کی فہرست طلب کی جائیگی ۔چیف منسٹر کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ تلنگانہ میں دوبارہ اقتدار و دیگر ریاستوں میں بی آر ایس سرگرمیوں کو وسعت دینے ناراض قائدین کو منانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ نامزد عہدوں پر تقررات میں کمزور طبقات اور اقلیتوں کو ترجیح دی جاسکتی ہے۔ ریاست میں کئی اقلیتی ادارے تقررات کے منتظر ہیں اور جن اداروں پر تقررات کئے گئے ، وہاں بورڈ آف ڈائرکٹرس کی تشکیل عمل میں نہیں لائی گئی ۔ ر