قاتل کو وزیر داخلہ ہندوستان بنانے پر اظہار افسوس

   

بی جے پی پر دستوری اداروں کو پامال کرنے کا الزام ، سدھاکر ریڈی و دیگر کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔7جون(سیاست نیوز) کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے قومی جنرل سکریٹری سدھاکر ریڈی نے کہاکہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ جس شخص پر قتل کے چھ مقدمات درج ہیں وہ ملک کا وزیرداخلہ بنا ہوا ہے ۔ بی جے پی کا یہ وطیرہ رہا ہے کہ جن کا مجرمانہ پس منظر اورجو فرقہ پرست ہیںانہیں کابینہ میںدرجہ فراہم کیاجاتا ہے۔سدھاکر ریڈی نے بھوپال سے نومنتخبہ رکن پارلیمنٹ سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر او رگری راج سنگھ کی مثالیں پیش کیں۔ سدھاکر ریڈی نے کہاکہ پرگیہ سنگھ ٹھاکر کو رکن پارلیمنٹ بنادیاگیا اور گرج راج سنگھ کو کابینی وزراء کا درجہ فراہم کیاگیا ہے۔ آج یہاں سی پی ائی ہیڈکوارٹر میںلوک سبھا الیکشن کے نتائج برآمد ہونے کے بعد پہلی مرتبہ میڈیاسے بات کرتے ہوئے سدھاکر ریڈی نے کہاکہ ریلائنس گروپ کی نگرانی میں ایک تربیتی کیمپ( جے او او انسٹیٹوٹ) سرکاری پیسوں پر چلایاگیامگر اس کا فائدہ صرف بی جے پی نے اٹھا یا ہے ۔ سدھاکر ریڈی نے ہریانہ ‘ بہار او راترپردیش میں انتخابی دھاندلیوں پر الیکشن کمیشن کی خاموشی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ مذکورہ ریاستوں میںرائے دہی سے زیادہ ووٹ گنتی کے دوران برآمد ہوئے جس پر اٹھے سوال کا اب تک الیکشن کمیشن نے کوئی جواب نہیں دیا۔سی پی آئی کے قومی جنرل سکریٹری نے مزید کہاکہ سازشوں کے ذریعہ دستور ی اداروں کی اہمیت کو پامال کیاجارہا ہے ۔ انہوں نے حالیہ لوک سبھا الیکشن کے نتائج کو عوامی رائے کے عین خلاف قراردیاہے۔ اس پریس کانفرنس میں سی پی آئی قومی عاملہ کے اراکین سید عزیز پاشاہ اورڈاکٹر کے نارائنا کے علاوہ سی پی آئی تلنگانہ جنرل سکریٹری چاڈا وینکٹ ریڈی بھی موجود تھے۔ چاڈا وینکٹ ریڈی نے تلنگانہ میںسیاسی انحراف کے فروغ کا ٹی آر ایس حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ ماضی میںکانگریس اراکین اسمبلی کے سیاسی انحراف کا معاملہ ہائی کورٹ میںزیرالتواء ہونے کے باوجودکانگریس کے ایک او رکن اسمبلی کو ٹی آر ایس میںشامل کرتے ہوئے ٹی آر ایس نے مبینہ طور پر عدالت کی توہین کی ہے۔انہوں نے مزید کہاکہ انٹر میڈیٹ نتائج میںدھاندلیوں کے باوجود حکومت نے خاطی عہدیداروں کے خلاف کاروائی نہیں کی مگر سیاسی انحراف کی حوصلہ افزائی میںسرگرم عمل ہے۔ انہوں نے کہاکہ ریاست میں دستوری اداروں کے ساتھ کھلواڑ کی جاری کوششوں کو روکنے کے لئے گورنر تلنگانہ او رآندھرا کو مداخلت کرنے کی ضرورت ہے۔ڈاکٹر کے نارائنا نے کہاکہ جس طرح مدھیہ پردیش او رکرناٹک میں بی جے پی سیاسی انحراف کی حوصلہ افزائی کررہی ہے اسی طرز پر ٹی آر ایس بھی تلنگانہ میں کانگریس کے اراکین اسمبلی کو ٹی آر ایس میںشامل کررہی ہے ۔