قبائیل اور آدی واسی علاقوں میں بنیادی انفراسٹرکچر کی فراہمی

   

ارکان اسمبلی کی چیف منسٹر سے ملاقات، محکمہ جنگلات سے رکاوٹ کی شکایت
حیدرآباد 14 اپریل (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کہاکہ اُن کی حکومت آدی واسیوں اور قبائیلی علاقوں کی جامع ترقی کے عہد کی پابند ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ قبائیلی، ایجنسی اور آدی واسی علاقوں کی ہمہ جہتی ترقی کے لئے حکومت نے جامع منصوبہ تیار کیا ہے۔ بنیادی انفراسٹرکچر کی فراہمی اور قبائیل کو درپیش چیالنجس کا حل تلاش کیا جائے گا۔ وزیر قبائیلی بہبود ڈی انوسویا سیتکا کی قیادت میں آدی واسی اور قبائیل کے ارکان اسمبلی کے وفد نے چیف منسٹر ریونت ریڈی سے ملاقات کی۔ وفد نے چیف منسٹر کو یادداشت پیش کرتے ہوئے قبائیلی اکثریتی علاقوں میں ترقیاتی کاموں کا حوالہ دیا۔ چیف منسٹر نے وفد کو یقین دلایا کہ ایجنسی علاقوں میں چیک ڈیمس کی تعمیر کو ترجیح دی جائے گی تاکہ پینے کے پانی اور آبپاشی دونوں ضروریات کی تکمیل ہو۔ چیف منسٹر نے کہاکہ چیک ڈیمس اور سڑکوں کی تعمیر میں محکمہ جنگلات کی جانب سے کسی بھی رکاوٹ کو ختم کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اِن کاموں کے لئے درکار اجازت نامے حاصل کئے جائیں گے۔ اُنھوں نے آدی واسی اور قبائیلی کسانوں کو زیر کاشت اراضی پر بورویلس کی کھدائی کی اجازت سے اتفاق کیا۔ ارکان اسمبلی نے بتایا کہ محکمہ جنگلات کے اعتراضات کے نتیجہ میں سڑکوں کی تعمیر میں تاخیر ہورہی ہے۔ بعض علاقوں میں نئی سڑکوں کی تعمیر کی اجازت سے انکار کیا جارہا ہے۔ چیف منسٹر نے محکمہ جنگلات کے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ اِن معاملات میں جلد فیصلہ کریں۔ اُنھوں نے تیقن دیا کہ آدی واسی اور قبائیلی علاقوں میں اندراماں ہاؤزنگ کے کوٹہ میں اضافہ کیا جائے گا۔ اِس موقع پر ارکان اسمبلی بی بجو، پی وینکٹیشورلو، ڈاکٹر مرلی نائک کے علاوہ رکن راجیہ سبھا وی نریندر ریڈی موجود تھے۔k/b/1/V