قرآن پاک کی بے حرمتی ناقابل برداشت

   

امن و انصاف کے عالمی ادارے نوٹ لیں ، صدر مجلس علماء دکن کا مذمتی بیان
حیدرآباد ۔ 25 ۔ جنوری : ( پریس نوٹ ) : مولانا سید محمد قبول بادشاہ الشطاری معتمد صدر مجلس علماء دکن ، مولانا ڈاکٹر سید گیسودراز خسرو حسینی سجادہ نشین روضہ منورہ گلبرگہ شریف ، مولانا سید اکبر نظام الدین حسینی صابری ، مولانا جسٹس سید شاہ محمد قادری ، مولانا مفتی خلیل احمد ، مولانا سید حسن ابراہیم حسینی سجاد پاشاہ قادری ، مولانا سید محمود بادشاہ قادری زرین کلاہ ، مولانا ڈاکٹر سید محمود صفی اللہ حسینی وقار پاشاہ قادری ، مولانا سید اولیاء حسینی مرتضیٰ پاشاہ قادری ، مولانا سید آل مصطفی علی پاشاہ قادری الموسوی ، مولانا سید شیخن احمد کامل بادشاہ قادری الشطاری ، مولانا ڈاکٹر سید علی حسینی علی پاشاہ قادری ، مولانا سید قطب الدین حسینی زید صابری ، مولانا مفتی سید صغیر احمد نقشبندی ، مولانا مشہود احمد اور مولانا ڈاکٹر سید بدیع الدین صابری معزز اراکین صدر مجلس علماء دکن نے اپنے مشترکہ احتجاجی بیان میں کہا کہ حالیہ دنوں میں سویڈن کے شہر اسٹاکہوم اور ہالینڈ کے شہر ہیگ میں اسلام اور مسلمانوں کی دشمن تنظیموں کے انتہا پسند قائدین نے قرآن پاک کو جلانے اور پھاڑنے کی وحشیانہ و گستاخانہ حرکتیں کر کے دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کردیا ۔ مسلمانوں کے لیے یہ ناقابل برداشت واقعات ہیں ۔ قبل ازیں بھی سویڈن میں مخالف اسلام شرپسندوں کی ریشہ دوانیاں ہوتی رہی ہیں تاہم اس مرتبہ ستم بالائے ستم یہ کہ قرآن پاک کی بے حرمتی ان دونوں ممالک میں باضابطہ ارباب حکومت کی اجازت سے انجام دی گئیں ۔ یعنی ان گستاخانہ واقعات کے ارتکاب میں دونوں سویڈن اور ہالینڈ کی حکومتیں بھی ملوث ہیں ۔ تعجب کی بات یہ بھی ہے کہ دوسری طرف سویڈن کے وزیراعظم اپنے ہی ملک سویڈن میں ہوئے مذموم واقعہ کی مذمت بھی کرتے ہیں ۔ اس دو عملی سے وزیراعظم سویڈن کی اخلاقی و فکری گراوٹ کا اندازہ ہوتا ہے ۔ اظہار رائے کی آزادی کا یہ مطلب نہیں کہ دوسروں کے مذہبی احساسات کو ٹھیس پہونچائی جائے ۔ صدر مجلس علماء دکن ان ہر دو انتہائی قابل اعتراض واقعات کی شدید مذمت کرتی ہے نیز دنیا میں ہر جگہ امن و انصاف قائم کرنے والے عالمی اداروں کے سربراہوں سے ہم سب پر زور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بلالحاظ مرتبہ اسلام ، قرآن ، پیغمبر اسلام ﷺ اور شعائر اسلام کی مخالفت و بے حرمتی کرنے والے عناصر کے تعلق سے نوٹ لیں اور سخت ترین قوانین مدون کریں تاکہ آئندہ کہیں بھی اور کبھی بھی ایسے دلآزار واقعات نہ ہونے پائیں اور یہ کہ مذکورہ واقعات کے مرتکب شرپسندوں کو سخت سزائیں دلوا کر انہیں کیفرکردار تک پہونچائیں ۔۔