پھر اگر ایسا نہ کرسکو اور ہرگز نہ کرسکو گے تو ڈرو اس آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں جو تیار کی گئی ہے کافروں کے لئے ۔ اور خوشخبری دیجیے اُنھیں جو ایمان لائے اور کیے نیک عمل (کہ) یقیناً اُن کے لئے باغات ہیں بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں جب کھلایا جائے گا انھیں ان باغوں سے کوئی پھل (تو صورت دیکھ کر ) کہیں گے یہ تو وہی ہے جو ہمیں پہلے کھلایا گیا تھا اور دیا گیا انھیں پھل (صورت میں ) ملتا جلتا اور اُن کے لئے جنت میں پاکیزہ بیویاں ہوں گی۔ اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے ۔(سورۃ البقرہ :۲۴۔۲۵)
حق واضح ہوجانے کے بعد حق کا انکار کرنے والوں کے لئے جو عذاب تیار کیا گیا ہے اس کے ذکر کے بعد ان لوگوں کو جو ایمان اور نیک اعمال سے متصف ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی سرمدی نعمتوں کے مژدہ سے خورسند کیا جا رہا ہے۔ حضرت معاذ ؓ فرماتے ہیں عمل صالح وہ ہے جس میں چار چیزیں ہوں۔ علم، نیت، صبر اور اخلاص (مظہری) نیز اس سے یہ بات بھی واضح ہو گئی کہ جنت کی ابدی نعمتوں کا حقیقی مستحق وہ ہے جو ایمان اور عمل صالح دونوں سے متصف ہو۔ یعنی جنت کے میووں کی شکل تو ایسی ہو گی جس سے وہ پہلے سے آشنا ہیں لیکن ان کا ذائقہ اور خوشبو بالکل نرالی ہو گی۔یعنی بالکل پاک وصاف۔ نہ جسمانی آلائشوں کا وہاں گزر ہوگا اور نہ اخلاقی عیوب سے ان کی سیرت کا دامن داغدار ہوگا۔ان انعامات کی بڑی خصوصیت یہ ہو گی کہ وہ عارضی نہیں ہوں گے۔ بلکہ اہل جنت ہمیشہ ہمیشہ ان سے لطف اندوز ہو تے رہیں گے۔