قرآن

   

وہ جو توڑتے رہتے ہیں عہد خداوندی کو اُسے پُختہ باندھنے کے بعد اور کاٹتے رہتے ہیں اُسے، حکم فرمایا اللہ نے جس کے جوڑنے کا اور فساد مچاتے رہتے ہیں زمین میں وہی لوگ نقصان اُٹھانے والے ہیں ۔کیونکر تم انکار کرتے ہو اللہ کا حالانکہ تم مُردہ تھے اُس نے تمہیں زندہ کیا پھر تمہیں مارے گا پھر تمہیں زندہ کرے گا پھر اسی کی طرف تم پلٹائے جاؤ گے۔(سورۃ البقرہ :۲۷۔۲۸)
ازراہ حیرت وتعجب کفار سے پوچھا جا رہا ہے کہ اتنی آفاقی اور انفسی، ظاہری اور باطنی دلیلوں کے باوجود وہ کفر کی جرات کیسے کر رہے ہیں۔یہاں دو چیزیں قابل غور ہیں۔ پہلی یہ کہ یہاں اللہ تعالیٰ کے انعامات کا بیان مقصود ہے تو پھر موت کا ذکر کیوں کیا۔ اس کا جواب تو یہ ہے کہ کیونکہ یہ موت انسان کو فانی زندگی سے نکال کر ابدی اور دائمی زندگی کی طرف لے جاتی ہے۔ تو یہ موت ہزار نعمتوں سے بڑی نعمت ہے۔ دوسری قابل غور چیز یہ ہے کہ یہاں دو موتوں اور دو زندگیوں کا ذکر ہے۔ اگر قبر کی زندگی مانی جائے تو تین زندگیاں اور تین تین موتین لازم آئیں گی اور یہ آیت کے خلاف ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ ثُـمَّ يُحْيِيْكُمْ سے قبر کی زندگی مراد ہے۔ کیونکہ اس کے بعد ارشاد ہے ثُـمَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ۔ پھر تم اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹائے جاؤگے۔ یہاں ثُـمَّ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ جو تعقیب اور تاخیر کے لئے آتا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنا اس زندہ ہونے کے بعد ہوگا لیکن اس کے بعد فوراً نہیں بلکہ دیر کے بعد۔ اور یہ تب ہی ہو سکتا ہے جب کہ قبر کی زندگی کو تسلیم کیا جائے۔