اپیل کورٹ نے موت کی سزا کو قید میں تبدیل کردیا‘حکومت ہند کو تفصیلی فیصلہ کا انتظار
نئی دہلی: ہندوستانی بحریہ کے جن 8 سابق افسران کو قطری عدالت نے موت کی سزا سنائی تھی، ان کی سزا معطل کر دی گئی ہے۔قطر کی اپیل کورٹ نے موت کی سزا کو قید میں تبدیلی کردیا ہے۔ خیال رہے کہ ہندوستانی بحریہ کے یہ تمام آٹھ سابق افسران گزشتہ سال اگست سے قطر کی جیل میں ہیں۔ قطر نے ابھی تک ان تمام سابق افسران پر لگائے گئے الزامات کے بارے میں معلومات نہیں دی ہیں۔ تاہم اس کیس سے واقف لوگوں کا کہنا ہے کہ ان تمام افراد پر جاسوسی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ الدہرا گلوبل کیس میں گرفتار نیوی کے سابق افسران کے حوالے سے آج کے فیصلے کا نوٹس لیا گیاہے، جس میں سزائیں کم کر دی گئی ہیں۔ قطر کی اپیل کورٹ کے تفصیلی فیصلہ کا انتظار ہے۔ قانونی ٹیم کے علاوہ خاندان کے افراد سے بھی رابطے میں ہیں تاکہ یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ اگلا قدم کیا ہوگا۔بیان میں مزید کہا گیا کہ آج قطری کورٹ آف اپیل میں ہندوستانی سفیر اور دیگر حکام سزا یافتہ افسران کے اہل خانہ کے ہمراہ تھے۔ خیال رہے کہ سزا پانے والے ہندوستانی بحریہ کے 8 سابق اہلکار قطر کی ایک نجی کمپنی کے لیے کام کر رہے تھے۔ یہ کمپنی قطری امیری بحریہ کو تربیت اور دیگر خدمات فراہم کرتی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس کمپنی کا نام الدہرا گلوبل اند کنسلٹنسی سروسز ہے۔ کمپنی خود کو قطر کے دفاع، سیکورٹی اور دیگر سرکاری اداروں کا مقامی پارٹنر بتاتی ہے۔قطر پولیس کے ہاتھوں گرفتار کیے گئے تمام افراد ایک نجی کمپنی میں کام کر رہے تھے۔ صدر ایوارڈ یافتہ کمانڈر پرنندو تیواری (ر) بھی بحریہ کے گرفتار شدہ 8 سابق افسران میں شامل ہیں۔ 2019 میں انہیں اس وقت کے صدر رام ناتھ کووند نے پرواسی بھارتیہ ایوارڈ سے نوازا تھا۔ کمپنی کی ویب سائٹ پر دستیاب معلومات کے مطابق پورنندو تیواری ہندوستانی بحریہ میں کئی بڑے جہازوں کی کمان سنبھال چکے ہیں۔