کوئی طاقت روک نہیں پائے گی، تقریر نہیں عوام کی بھلائی چاہئے ، چیف منسٹر کی بنگلور میں دیوے گوڑا اور کمارا سوامی سے ملاقات
حیدرآباد۔26۔ مئی (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے قومی سطح پر متبادل محاذ کی تشکیل کی سرگرمیوں کے تحت آج بنگلور پہنچ کر سابق وزیراعظم اور جنتادل سیکولر کے سربراہ ایچ ڈی دیوے گوڑا اور ان کے فرزند سابق چیف منسٹر ایچ ڈی کمارا سوامی سے ملاقات کی ۔ دیوے گوڑا کی قیامگاہ پر کے سی آر نے لنچ کیا اور قومی سیاسی صورتحال کے علاوہ بی جے پی کے متبادل کی تشکیل کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔ چیف منسٹر کے ہمراہ راجیہ سبھا کے رکن سنتوش کمار اور ارکان مقننہ راجندر ریڈی ، کرشنا موہن ریڈی اور جیون ریڈی موجود تھے۔ ملاقات کے بعد ایچ ڈی کمارا سوامی کے ہمراہ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کے سی آر نے اس بات کو دہرایا کہ آئندہ دو تین ماہ میں قومی سیاست میں سنسنی خیز تبدیلی واقع ہوگی اور کوئی بھی طاقت اسے روک نہیں پائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ’’اجول بھارت‘‘ کی تشکیل کیلئے مساعی جاری ہے اور عوام کو سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر کام کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی قائدین کو بھی ملک کی بھلائی اور ترقی کیلئے سیاست سے اٹھ کر کام کرنا چاہئے ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ہندوستان میں قومی سطح پر عنقریب اہم تبدیلیاں رونما ہوں گی جنہیں کوئی بھی روک نہیں پائے گا ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ دیوے گوڑا اور کمارا سوامی کے ساتھ قومی سیاست اور کرناٹک کی سیاست پر بات چیت ثمر آور رہی ۔ انہوں نے یاد دلایا کہ وہ سابق میں کمارا سوامی کی حلف برداری تقریب میں شرکت کا وعدہ کرچکے تھے اور ان کی بات درست ثابت ہوئی۔ اس مرتبہ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ قومی سطح پر اہم تبدیلیاں رونما ہوں گی۔ بیگم پیٹ ایرپورٹ پر وزیراعظم نریندر مودی کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کے سی آر نے کہا کہ ہندوستان آزادی امرت مہا اتسو منارہا ہے لیکن عوام بنیادی ضرورتوں جیسے پینے کے پانی اور برقی سے محروم ہیں۔ کوئی بھی تقریریں تو کرسکتا ہے لیکن ہم تبدیلی چاہتے ہیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ملک میں جی ڈی پی کی شرح میں تیزی سے کمی آئی ہے اور افراط زر میں اضافہ ہوا۔ روپیہ کی قدر میں غیر معمولی کمی آئی ہے۔ بیروزگاری عروج پر ہے اور صنعتیں بند ہورہی ہیں۔ کے سی آر نے کہا کہ دلت ، آدیواسی ، کسان اور مزدور کوئی بھی خوش نہیں ہیں۔ان کی زندگی میں کوئی خوشحالی نہیں آئی۔ قومی سطح پر مضبوط معیشت کی تشکیل میں ناکامی کیلئے کے سی آر نے موجودہ اور سابقہ مرکزی حکومتوں کو ذمہ دار قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں انسانی وسائل کی کمی نہیں ہے اور قدرتی وسائل اور ماحول بھی ترقی کیلئے بہتر ہے۔ اگر ہم عہد کے ساتھ کام کریں تو امریکہ کی معیشت کو پیچھے چھوڑ سکتے ہیں۔ ہمیں اجول بھارت کی تشکیل کیلئے کام کرنا چاہئے ۔ ایک سوال کے جواب میں کے سی آر نے کہا کہ ملک کا وزیراعظم کون ہوگا اور کونسی پارٹی برسر اقتدار آئے گی؟ یہ فی الوقت سوال نہیں ہے بلکہ ملک کی ترقی اور عوام کی بھلائی اولین ترجیح ہے۔ ملک میں کئی سیاسی جماعتوں اور قائدین کے اقتدار کے باوجود ترقی کا مقصد پورا نہیں ہوسکا۔ ایچ ڈی دیوے گوڑا نے ٹوئیٹر پر کے سی آر کے ساتھ تصاویر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ نے میری قیامگاہ پر ملاقات کی۔ ہم نے قومی اہمیت کے حامل کئی امور پر باہمی تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات خوشگوار اور ثمر آور ہے۔ ایچ ڈی کمارا سوامی نے میڈیا کے نمائندوں سے کہا کہ قومی سطح پر متبادل محاذ کی تشکیل کیلئے کے سی آر مساعی کر رہے ہیں۔ کے سی آر اس سلسلہ میں مختلف قائدین سے ملاقات کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ترقی اور عوام کی خوشحالی کیلئے تبدیلی ضروری ہے۔ چیف منسٹر کے سی آر شام میں بنگلور سے حیدرآباد واپس ہوگئے۔ بنگلور میں کے سی آر کے استقبال کیلئے کٹ آؤٹس اور فلیکسی لگائے گئے تھے۔ر