بانسواڑہ میں کانفرنس، مختلف مذہبی و سیاسی قائدین کی شرکت اور خطاب
بانسواڑہ ۔ 29 ستمبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) مدرسہ عبداللہ بن عباس کے زیر اہتمام 27 ستمبر کی شام بانسواڑہ میں قومی یکجہتی کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس میں مختلف مذاہب، سیاسی و سماجی حلقوں کی اہم شخصیات کے علاوہ اہلیان بانسواڑہ نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رکن اسمبلی پوچارم سرینواس ریڈی نے کہا کہ ہندوستان کی اصل طاقت اس کے عوام کا اتحاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا آئین ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کی مکمل آزادی دیتا ہے، یہی ہمارے جمہوری نظام کی خوبصورتی ہے۔ ذات پات اور مذہب سے بالاتر ہو کر رہنا ہی قومی یکجہتی کی بنیاد ہے۔ انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ نفرت پھیلانے والی باتوں سے دور رہیں اور امن و اتحاد کے سفیر بنیں۔کانفرنس سے حضرت مولانا محمد حسام الدین جعفر پاشاہ حسامی، جانشین حضرت مولانا عاقل صاحب و امیر ملت اسلامیہ تلنگانہ، مولانا غلام یزدانی صدر جمعیۃ علماء بیدر، حافظ محمد لئیق خان اور حافظ محمد فہیم الدین نے خطاب کرتے ہوئے قومی یکجہتی، باہمی اخوت اور انسانیت کی خدمت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔مختلف مذاہب کے قائدین میں ہندو دھرم کے ڈاکٹر یگنم پون کمار شرما اور مسیحی رہنما پروفیسر ڈاکٹر راجیشور سولمان مشیر حکومت تلنگانہ نے بھی اظہار خیال کیا۔ چیئرمین ایگروز تلنگانہ کاسولا بالراج سمیت دیگر سیاسی و سماجی شخصیات بھی شریک رہیں۔کانفرنس کی نمایاں خصوصیت مدرسہ کے طلبہ کی اردو، تلگو، انگریزی اور مراٹھی میں کثیر لسانی تقاریر رہیں، جن میں اتحاد، اخلاق اور باہمی احترام کا پیغام دیا گیا۔ مولانا سلیمان آندھرا پردیش نے تلگو میں خطاب کیا۔آخر میں ناظم مدرسہ مفتی عمر بن عیسیٰ قاسمی کی جانب سے تمام مہمانوں، علماء کرام اور اہلیان بانسواڑہ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا گیا۔