تلنگانہ جاگروتی نئی سیاسی جماعت کے قیام کو مختلف تنظیموں کی حمایت : کویتا
نظام آباد۔18 اپریل ۔ (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) دفتر تلنگانہ جاگروتی بنجارہ ہلز میں آج مجوزہ نئی سیاسی جماعت کے قیام کے خصوص میں مختلف تنظیموں اور قائدین نے اپنی حمایت کا اعلان کیا۔ اس موقع پر سی پی یو ایس آئی مرکزی کمیٹی کے سکریٹری کودنڈم، ریاستی سکریٹری وینکنا، دلت بہوجن راجیہ ادھیکار کے کنوینر گُڈی پلی روَنّا، ماروجو ویرنّا کے ساتھی کشن نائک سمیت دیگر قائدین نے تلنگانہ جاگروتی کی صدر کلواکنٹلہ کویتا سے ملاقات کرتے ہوئے اپنی تائید کا اعلان کیا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ ماروجو ویرنّا کے حامیوں کی حمایت اُنہیں زبردست حوصلہ اور طاقت فراہم کریگی۔ انہوں نے کہا کہ اس اجلاس میں خواتین کی بڑی تعداد کی شرکت خوش آئند ہے۔انہوں نے کہا کہ تین تا چار سال قبل وہ دہلی جا کر دھرنا دے چکی ہیں جس کے نتیجہ میں خواتین بل منظور ہوا، تاہم اب اسی بل کو دوبارہ پیش کرنے کے نام پر عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مختلف طبقات کو ملنے والے فوائد فراہم کرنے کے بجائے ہر معاملہ میں سیاسی فائدہ اُٹھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ کے قیام کو 12 سال گزرنے کے باوجود سماجی انصاف کا قیام ممکن نہیں ہو سکا اور کئی طبقات آج بھی اقتدار سے دور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے حالیہ سروے سے بھی یہ بات واضح ہوئی ہے کہ کئی برادریاں آج بھی اقتدار میں نمائندگی سے محروم ہیں، یہاں تک کہ دیہی سطح پر بھی کئی طبقات کو وارڈ ممبر یا سرپنچ بننے کا موقع نہیں ملا۔کویتا نے اعلان کیا کہ رواں ماہ کی 25 تاریخ کو ایک نئی سیاسی طاقت کے طور پر ان کی جماعت سامنے آئے گی، جو تلنگانہ کے علاقائی تشخص اور سماجی انصاف کے نظریے کو آگے بڑھانے کی کوشش کرے گی۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ جس طرح وہ تلنگانہ تحریک کے کارکنوں اور شہداء کے خاندانوں کے لئے جدوجہد کر رہی ہیں، اسی طرح سابق ماؤ نوازوں کے حقوق کے لئے بھی آواز بلند کریں گی۔کویتا نے کہا کہ اب جبکہ ماروجو ویرنّا کے حامی ان کے ساتھ آ گئے ہیں، تو انہیں روکنے کی طاقت کسی میں نہیں رہی۔