نئی دہلی 09 جون: ( ایجنسیز)د ہلی کی راؤز ایونیو عدالت نے آئی آر سی ٹی سی سے متعلق مبینہ منی لانڈرنگ مقدمے میں راشٹریہ جنتا دل سربراہ لالو پرساد یادو، ان کے اہلِ خانہ اور دیگر ملزمان کے خلاف فردِ جرم کے معاملے پر فیصلہ 16 جولائی تک مؤخر کر دیا ہے۔ اس کیس کی تحقیقات ای ڈی کر رہا ہے۔ عدالت سے اس معاملے میں فیصلہ کی توقع تھی، تاہم عدالت نے لالو پرساد یادو، تیجسوی یادو، رابڑی دیوی اور دیگر ملزمان کے خلاف فردِ جرم طے کرنے سے متعلق حکم محفوظ رکھتے ہوئے اگلی سماعت تک فیصلہ ملتوی کر دیا۔ای ڈی کے مطابق معاملہ 2004 سے 2009 کے درمیان کا ہے، جب لالو یادو مرکزی وزیر ریلوے تھے۔ ایجنسی کا الزام ہے کہ اس عرصے میں آئی آر سی ٹی سی کے تحت چلنے والے ہوٹلوں کے آپریشن اور دیکھ بھال کے ٹھیکوں کی تقسیم میں قواعد و ضوابط کی خلاف ورزیاں کی گئیں۔تفتیشی حکام کا دعویٰ ہے کہ ہوٹلوں کے انتظامی معاہدے ایک ایسی نجی کمپنی کو دیے گئے جو مبینہ طور پر لالو پرساد یادو کے قریبی افراد سے وابستہ تھی۔ ان معاہدوں کے عوض لالو خاندان سے منسلک افراد کو ایک مبینہ بے نامی کمپنی سے تین ایکڑ اراضی منتقل کی گئی۔ مقدمے میں لالو یادو، رابڑی دیوی، تیجسوی یادو، تیج پرتاپ یادو، میسا بھارتی، ہیما یادو کو ملزم بنایا گیا ہے۔