لبنان سے 50 میزائل فائر کئے گئے ،اسرائیل کا دعویٰ

   

کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں، سرحد پر بفرزون کے بغیر جنگ بندی کی تجویز مسترد

مقبوضہ بیت المقدس: اسرائیلی فوج نے کہا ہیکہ لبنان کی جانب سے ملک کے شمالی حصے کی طرف تقریباً پچاس میزائل فائر کیے گئے ہیں تاہم کوئی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج نے کہا ہیکہ ’کچھ میزائل فضا میں ہی مار گرائے تھے ،جبکہ علاقہ میں گرے ہوئے میزائلوں کی شناخت کی گئی ہے۔حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے شمالی شہر صفد پر ’ایک ساتھ کئی میزائل‘ فائر کیے ہیں۔ منگل کو نیتن یاہو کا یہ بیان ایسے وقت پر سامنے آیا جب امریکہ کی جانب سے لبنان اور غزہ میں جنگ کے طریقہ کار کے حوالے سے اسرائیل پر دباؤ بڑھ رہا ہے جبکہ فلسطینی علاقوں میں زیادہ امداد کی رسائی کو یقینی بنانے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔فرانس کے صدر ایمانیول میکخواں سے ٹیلی فون پر بات چیت کے دوران نیتن یاہو نے کہا کہ وہ یکطرفہ جنگ بندی کیخلاف ہیں جس سے لبنان میں سکیورٹی کی صورتحال نہیں بدلے گی ۔ نتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فوج کئی مرتبہ اصرار کر چکی ہیکہ لبنان کے ساتھ سرحد پر بفر زون ہونا چاہیے جہاں حزب اللہ کے جنگجو موجود نہ ہوں۔اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’وزیراعظم نیتن یاہو نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل کسی ایسے معاہدے پر اتفاق نہیں کرے گا جس کے تحت بفر زون نہ فراہم کیا گیا ہو اور جو حزب اللہ کو دوبارہ مسلح ہونے اور دوبارہ منظم ہونے سے نہ روکے۔ادھر حزب اللہ کے نائب سربراہ نعیم قاسم نے ٹیلی ویژن پر تقریر میں کہا کہ جنگ بندی ہی واحد حل ہے اور ساتھ ہی اسرائیل پر میزائل حملوں کا دائرہ بڑھانے کی بھی دھمکی دی۔انہوں نے کہا کہ چونکہ اسرائیلی دشمن نے پورے لبنان کو نشانہ بنایا ہے، ہمارا بھی دفاعی اعتبار سے حق بنتا ہے کہ (اسرائیل میں) کسی بھی جگہ کو نشانہ بنائیں۔اتوار کو اسرائیلی حکومت کو بھیجے گئے خط میں امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن اور وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے خبردار کیا کہ غزہ میں فلسطینیوں کو مزید امداد نہ فراہم کی گئی تو امریکہ ہتھیاروں کی سپلائی روک سکتا ہے۔