لفظ ’’ انقلاب ‘‘ پر بھی بحث و مباحث کا آغاز

   


ملک فاشزم کا شکار ، جمہوریت کیلئے خطرہ ، ماہرین کا اظہار افسوس
حیدرآباد۔21۔اکٹوبر(سیاست نیوز) ملک فاشزم کا شکار ہوتا جا رہاہے اور ملک میں جمہوریت کے خطرہ میں ہونے کا متعدد مرتبہ خدشہ ظاہر کیا جاچکا ہے اور اب لفظ ’انقلاب‘ پر بھی بحث و مباحث شروع ہوچکے ہیں۔ مولانا حسرت موہانی ؒ نے پہلی مرتبہ تحریک آزادی کے دوران لفظ انقلاب کا استعمال کیا تھالیکن آج اس لفظ کے کئی معنی لئے جانے لگے ہیں اور اس لفظ کو خون خرابہ اور مسلح جدوجہد سے جوڑا جانے لگا ہے جبکہ ماہرین تعلیم کی نظر میں لفظ انقلاب کو تخریبی لفظ نہیں ہے بلکہ معروف مؤرخ ایس عرفان حبیب نے لفظ ’انقلاب‘ کو تخریبی قراردیئے جانے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افسوس کے ساتھ یہ کہناپڑ رہا ہے کہ انقلاب جیسے لفظ میں لوگ تخریبی عنصر دیکھنے لگے ہیں۔ دہلی یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے پروفیسر اپوروانند نے دہلی ہائی کورٹ میں عمر خالد کی ضمانت پر مباحث اور اسے مسترد کرنے کے لئے لفظ انقلاب کے استعمال پر کئے جانے والے اعتراضات کو خارج کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے انقلاب کے معنیٰ کو مضحکہ خیز حد تک تبدیل کردیا ہے۔ واضح رہے کہ عدالت نے عمر خالد کی ضمانت پر ہونے والے مباحث کے دوران کہا تھا کہ لفظ’انقلاب‘ کے معنی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انقلاب کبھی خون خرابہ کے بغیر نہیں ہوتا۔لفظ انقلاب پر جاری مباحث میں حصہ لینے والے ماہرین تعلیم نے اسے منفی طور پر پیش کئے جانے پر حیرت و استعجاب کا اظہار کرنا شروع کردیا ہے اور کہا جا رہاہے کہ اس لفظ کو غیر آئینی و غیر دستوری لفظ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی جار ہی ہے۔ دہلی فسادات سے قبل عمر خالد نے اپنے ایک خطاب کے دوران ’’انقلابی سلام‘‘ کا لفظ استعمال کیا تھا اور اس لفظ کو ہی بغاوت پر اکسانے کے الزام کے لئے پیش کیا جا رہاہے۔م