لوک سبھا الیکشن کے بعد بی آر ایس کا صفایا: اتم کمار ریڈی

   

راہول گاندھی ملک کے آئندہ وزیراعظم ، کالیشورم پراجکٹ میں بے قاعدگیوں کی تحقیقات
حیدرآباد ۔ 10۔ مئی (سیاست نیوز) وزیر آبپاشی اتم کمار ریڈی نے الزام عائد کیا کہ مودی حکومت نے پارلیمانی نظام کو تباہ کردیا ہے اور ملک میں جمہوریت اور جمہوری اداروں کو خطرہ لاحق ہوچکا ہے۔ حیدرآباد میں میٹ دی پریس پروگرام میں حصہ لیتے ہوئے اتم کمار ریڈی نے کہا کہ ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ بی جے پی حکومت نے کئی اہم سرکاری بلز کو مباحث کے بغیر منظور کیا اور اپوزیشن ارکان کے ایوان سے معطل کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں جمہوریت کو ایک مذاق بنادیا گیا ہے ۔ نریندر مودی کے تیسری مرتبہ وزیراعظم بننے کی صورت میں ہندوستان کو پاکستان ، روس اور شمالی کوریا جیسے ممالک میں تبدیل کردیا جائے گا ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سی بی آئی ، ای ڈی اور انکم ٹیکس کے ذریعہ ملک میں اپوزیشن قائدین کو نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ بی جے پی مرکزی تحقیقاتی اداروں کے استعمال کے ذریعہ کامیابی کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر بی جے پی کامیابی ہوتی ہے تو ملک میں پارلیمانی جمہوریت کا خاتمہ ہوجائے گا۔ گزشتہ 10 برسوں میں نریندر مودی نے ایک بھی عوامی وعدہ پر عمل نہیں کیا ۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں مرکزی اسکیم کے تحت ایک بھی مکان تعمیر نہیں کیا گیا ۔ فوج میں شمولیت کے لئے اگنی ویر اسکیم کی مخالفت کرتے ہوئے اتم کمار ریڈی نے کہا کہ یہ اسکیم ملک کی سلامتی کے لئے ٹھیک نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی اور بی جے پی ملک کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ بی جے پی کو تلنگانہ میں ووٹ مانگنے کا اخلاقی حق نہیں ہے۔ وزیر آبپاشی نے پیش قیاسی کی کہ پارلیمنٹ چناو کے بعد بی آر ایس کا صفایا ہوجائے گا کیونکہ بی آر ایس کو ایک بھی نشست حاصل نہیں ہوگی۔ بی آر ایس قیادت بہت جلد وی آر ایس یعنی رضاکارانہ سبکدوشی اختیار کرلیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ کالیشورم پراجکٹ میں بے قاعدگیوں کیلئے کے سی آر کو عوام سے معذرت خواہی کرنی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس قائدین تیزی سے پارٹی چھوڑ رہے ہیں اور الیکشن کے بعد یہ سلسلہ تیز ہوگا ۔ ایک سوال کے جواب میں اتم کمار ریڈی نے کہا کہ انڈیا الائنس کی کامیابی کی صورت میں راہول گاندھی وزیراعظم کے عہدہ پر فائز ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ کالیشورم پراجکٹ میں کمیشن حاصل کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ نلگنڈہ لوک سبھا حلقہ میں کانگریس کو پانچ لاکھ ووٹوں کی اکثریت سے کامیابی حاصل ہوگی۔ اسی طرح بھونگیر میں بھی کانگریس بھاری اکثریت سے کامیاب ہوگی۔1