لوک سبھا حلقہ جات کی حدبندی پر اجلاس میں شرکت کیلئے ریونت ریڈی کو دعوت

   

22 مارچ کو چینائی میں اجلاس، ڈی ایم کے قائدین کی چیف منسٹر سے ملاقات، جنوبی ریاستوں کی نشستوں کو محدود کرنے کی مرکز کی سازش کا الزام
حیدرآباد 14 مارچ (سیاست نیوز) چیف منسٹر ٹاملناڈو ایم کے اسٹالن نے پارلیمانی حلقہ جات کی نئی حد بندی سے متعلق مرکزی حکومت کی مساعی پر 22 مارچ کو چینائی میں مختلف سیاسی پارٹیوں کے نمائندوں کے ساتھ اجلاس طلب کیا ہے۔ ڈی ایم کے قائدین نے آج نئی دہلی میں چیف منسٹر ریونت ریڈی سے ملاقات کی اور چیف منسٹر ایم کے اسٹالن کی جانب سے مکتوب حوالے کیا۔ ٹاملناڈو کے وزیر کے نہرو، ڈی ایم کے ارکان پارلیمنٹ کنی مولی اور اے راجہ نے نئی دہلی میں ریونت ریڈی سے ملاقات کی اور 22 مارچ کو اجلاس کی تفصیلات سے واقف کرایا۔ چیف منسٹر نے اجلاس میں شرکت سے اُصولی طور پر اتفاق کیا اور کہاکہ پارٹی ہائی کمان سے اجازت حاصل کرتے ہوئے وہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے الزام عائد کیاکہ مرکزی حکومت جنوبی ریاستوں کے ساتھ ناانصافی کا رویہ اختیار کئے ہوئے ہے۔ لوک سبھا حلقہ جات کی ازسرنو حد بندی کے ذریعہ جنوبی ریاستوں کی لوک سبھا نشستوں کی تعداد کو محدود کرنے کی سازش ہے۔ جنوبی ہند کے ساتھ مرکزی بی جے پی حکومت کے امتیازی رویہ کی مذمت کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہاکہ 22 مارچ کے اجلاس میں حکمت عملی طے کی جائے گی تاکہ جنوبی ریاستوں کے لئے انصاف حاصل کیا جاسکے۔ چیف منسٹر نے کہاکہ 2029 ء لوک سبھا انتخابات سے قبل مرکزی حکومت کی سازش کو ناکام بنانے کے لئے اجلاس میں حکمت عملی طے کی جائے گی۔ اُنھوں نے کہاکہ جنوبی ریاستیں لوک سبھا حلقہ جات کی ازسرنو حد بندی کو ہرگز قبول نہیں کریں گی۔ مرکزی حکومت کو وسائل کی فراہمی میں شمال سے جنوب کا حصہ ہے۔ جنوبی ریاستیں شمالی ریاستوں سے زیادہ ٹیکس میں حصہ داری ادا کرتی ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ جنوبی ریاستوں کیرالا، ٹاملناڈو، کرناٹک، تلنگانہ اور آندھراپردیش میں بی جے پی کو مضبوط کرنے کے لئے سازش کی جارہی ہے۔ اِن ریاستوں میں بی جے پی کافی کمزور ہے۔ حلقہ جات کی ازسرنو حد بندی کا مقصد بی جے پی کیلئے سیاسی فائدہ حاصل کرنا ہے۔ چیف منسٹر نے کہاکہ تلنگانہ میں حکومت نے حلقہ جات کی ازسرنو حد بندی کے مسئلہ پر سیاسی پارٹیوں سے مشاورت کا فیصلہ کیا ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا اور سابق وزیر جانا ریڈی اِس سلسلہ میں کل جماعتی اجلاس طلب کریں گے۔ اُنھوں نے کہاکہ سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر تمام پارٹیوں کو اپنی رائے پیش کرنی چاہئے۔ ریونت ریڈی نے بتایا کہ تلنگانہ حکومت کے کل جماعتی اجلاس میں بی جے پی کو بھی مدعو کیا جائے گا۔ اُنھوں نے بھٹی وکرامارکا کو مشورہ دیا ہے کہ مرکزی وزیر کشن ریڈی کو بھی اجلاس میں مدعو کریں۔ مرکزی حکومت سے تلنگانہ اور دیگر جنوبی ریاستوں کے لئے انصاف کے حصول اور حقوق کے تحفظ میں کشن ریڈی کو مدد کرنی چاہئے۔ تلنگانہ میں اجلاس 22 مارچ سے قبل طلب کیا جائے گا۔ چیف منسٹر نے واضح کیاکہ مرکزی حکومت نے جنوبی ریاستوں کے ساتھ ناانصافی کی سازش کے تحت حلقہ جات کی حد بندی کا فیصلہ کیا ہے۔ چیف منسٹر نے ریمارک کیاکہ یہ دراصل حلقہ جات کی حدبندی نہیں بلکہ جنوبی ریاستوں کے حلقہ جات کو محدود کرنے کی سازش ہے۔ ایم کے اسٹالن نے مکتوب میں کہاکہ مرکز کے فیصلہ کے خلاف ٹاملناڈو، کیرالا، آندھراپردیش، کرناٹک، تلنگانہ، مغربی بنگال، اڈیشہ اور پنجاب ریاستوں کو جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے طور پر مستقبل کی حکمت عملی کو طے کرنا چاہئے۔ 1