ثبوت کے ساتھ فیروز خاں کی الیکشن کمیشن سے نمائندگی،ایک ہی تصویر کے ایک لاکھ سے زائد ووٹ، 15 ہزار متوفی فہرست میں زندہ
ایک ایک گھر میں 200 سے زائد نام، وکاس راج سے ملاقات، ووٹر لسٹ کو درست کرنے خصوصی مہم کا مطالبہ
حیدرآباد ۔/28 فروری، ( سیاست نیوز ) کانگریس پارٹی نے حیدرآباد لوک سبھا حلقہ کے 7 اسمبلی حلقوں میں 6.60 لاکھ بوگس ووٹرس کے بارے میں ثبوت کے ساتھ الیکشن کمیشن سے نمائندگی کی ہے۔ پردیش کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری اور لوک سبھا حیدرآباد کے انچارج محمد فیروز خاں نے آج چیف الیکٹورل آفیسر وکاس راج سے ملاقات کرتے ہوئے یادداشت حوالے کی۔ انہوں نے 6.60 لاکھ بوگس ووٹرس کی مختلف زمرہ جات میں موجودگی کا ثبوت حوالے کیا اور ووٹرس لسٹ سے ان ناموں کو حذف کرنے کا مطالبہ کیا۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے فیروز خاں نے کہا کہ بوتھ سطح کے عہدیداروں کے ذریعہ خصوصی مہم چلائی جائے تاکہ حیدرآباد کی ووٹر لسٹ کو بوگس ناموں سے پاک کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ لوک سبھا حلقہ حیدرآباد کے تحت 7 اسمبلی حلقوں ملک پیٹ، کاروان، گوشہ محل، چارمینار، چندرائن گٹہ، یاقوت پورہ اور بہادر پورہ میں 6 لاکھ سے زائد بوگس رائے دہندوں کے ذریعہ مجلسی قیادت کامیابی حاصل کررہی ہے جن دو ماہ کی مسلسل محنت کے ذریعہ نشاندہی کی گئی ہے۔ حیدرآباد لوک سبھا حلقہ کے 21 لاکھ رائے دہندوں میں 30 فیصد بوگس ہیں اور ہر چار رائے دہندوں میں ایک بوگس ووٹر ہے۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا کو پہلے ہی تفصیلات روانہ کی جاچکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن سسٹم کو حیدرآباد میں مذاق بنادیا گیا ہے اورکارکردگی اور خدمت کے بغیر ہی مجلسی قیادت بوگس رائے دہی کے ذریعہ کامیابی حاصل کررہی ہے۔ مجلسی قیادت کا انحصار صرف بوگس ووٹرس پر ہے اور کسی انتخابی منشور کے بغیر ہی کامیابی حاصل کی جارہی ہے۔ عوام کی خدمت اور مسائل حل کرنے کے بجائے اسلام کو خطرہ میں دکھاکر مسلمانوں کو گمراہ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 7 اسمبلی حلقہ جات میں یکساں فوٹو کے رائے دہندوں کی تعداد 116397 ہے جن میں ملک پیٹ 20090 ، کاروان 20763 ، گوشہ محل 12553 ، چارمینار 11254، چندرائن گٹہ 17620 ، یاقوت پورہ 23254 اور بہادر پورہ میں 10863 یکساں تصویر کے رائے دہندے ہیں۔ فیروز خاں کے مطابق ایک حلقہ سے دوسرے حلقہ میں منتقلی کے بعد فہرست رائے دہندگان میں نام شامل کئے گئے اور 288956 ایسے رائے دہندے ہیں جو ایک سے زائد اسمبلی حلقہ جات میں ووٹر کے طور پر شامل ہیں۔ یہ رائے دہندے دن بھر مختلف اسمبلی حلقہ جات میں گھوم کر رائے دہی میں حصہ لیتے ہیں۔ حیدرآباد لوک سبھا حلقہ میں سنگل یعنی تنہا رائے دہندوں کی تعداد 174990 ہے اور ہر علاقہ میں ایسے سنگل رائے دہندوں کو رکھا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سات اسمبلی حلقہ جات میں 15025 متوفی رائے دہندوں کے نام فہرست میں موجود ہیں۔ فیروز خاں نے انکشاف کیا کہ ایک ایک گھر میں 60 سے 200 تک رائے دہندے دکھائے جارہے ہیں جبکہ گھر بمشکل 200 گز پر مشتمل ہے۔ 680 گھروں میں 53991 رائے دہندے موجود ہیں۔ یاقوت پورہ کے ایک مکان میں 662 ووٹرس جبکہ چندرائن گٹہ کے ایک مکان میں 234 اور بہادر پورہ کے ایک مکان میں 418 رائے دہندوں کے نام درج ہیں۔ الیکشن کمیشن کے قواعد کے مطابق کسی گھر میں 6 سے زائد رائے دہندے ہوں تو بوتھ لیول آفیسر کو جانچ کرنی چاہیئے۔ انہوں نے بتایا کہ 7 اسمبلی حلقہ جات میں 23045 ایسے رائے دہندے ہیں جن کا کوئی گھر اور پتہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد لوک سبھا حلقہ میں 278162 ایسے گھر ہیں جن کا کوئی اسسمنٹ نہیں کیا گیا اور ان میں رائے دہندوں کی تعداد 818816 ہے۔ فیروز خاں نے کہا کہ مقامی قائدین اور بلدی عہدیدار ملکر حکومت کے خزانہ میں جانے والے ٹیکس کی رقم کو لوٹ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو تعلیمی، سماجی اور معاشی طور پر پسماندہ رکھتے ہوئے صرف بوگس ووٹرس کے ذریعہ مجلس کامیاب ہورہی ہے۔ 10 برسوں تک بی آر ایس حکومت سے فائدے حاصل کئے گئے اور اب ریونت ریڈی سے قربت کی کوشش کی جاری ہے۔1