نئی دہلی : سپریم کورٹ نے اترپردیش کے لکھیم پور کھیری میں کسان تحریک کے دوران تیز رفتار کار سے روند کر ( 3اکتوبر 2021) کسانوں کے مبینہ قتل کے معاملے میں مرکزی وزیر اجے مشرا کے بیٹے آشیش مشرا کوراحت دیتے ہوئے چہارشنبہ کو آٹھ ہفتے کی عبوری ضمانت دے دی۔بنچ نے اسی تشدد کے دوران دو کار سواروں کا پیٹ پیٹ کر قتل کرنے کے معاملے میں ازخود نوٹس لیتے ہوئے ملزمان کوبھی عبوری ضامنت دیدی۔جسٹس سوریا کانت اور جسٹس جے کے مہیشوری کی بنچ نے آشیش کی اپیل کو قبول کرتے ہوئے کئی سخت شرائط کے ساتھ رہائی کا حکم دیا۔ سپریم کورٹ نے متعلقہ فریقین کے دلائل سننے کے بعد 19 جنوری کو اس معاملے میں اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ بنچ کی جانب سے آشیش پر عائد ضمانت کی سخت شرائط میں اس کے اترپردیش اوردہلی میں داخلے کی پابندی بھی شامل ہے ۔ سپریم کورٹ نے اسے جیل سے رہائی کے ایک ہفتہ کے اندر اتر پردیش چھوڑنے کا حکم دیا ہے ۔بنچ نے واضح کردیا ہے کہ ملزم یا اس کے اہل خانہ کی طرف سے گواہوں کو کسی قسم کی دھمکی پرضمانت منسوخ کردی جائیگی۔ عدالت عظمیٰ نے یہ بھی کہا کہ ضمانت میں مزید توسیع کا انحصار درخواست گزار آشیش کی رہائی کے دوران اس کے طرزعمل پر ہوگا۔ سپریم کورٹ نے لکھیم پور کھیری کیس کی سماعت کی نگرانی کرنے کا بھی فیصلہ کیا، کیونکہ اس نے نچلی عدالت کی سماعت کی ہرتاریخ کے بعد پیش رفت رپورٹ بھیجنے کا حکم دیا تھا۔بنچ نے کہاکہ اگر یہ پایا جاتا ہے کہ مقدمے میں تاخیر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تو اس صورت حال کو بھی اس کی ضمانت کی منسوخی کیلئے ایک درست بنیاد سمجھا جائیگا۔